نیو یارک( مانیٹرنگ ڈیسک)اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس (2026-27) کے لیے بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خالد الرحمان صدر منتخب ہو گئے ہیں۔ انہوں نے ایک سخت اور قریبی مقابلے میں قبرص کے امیدوار آندریاس ایس کاکورس کو شکست دی۔193 رکنی جنرل اسمبلی میں ہونے والی رائے شماری میں خالد الرحمان نے 99 ووٹ حاصل کیے جبکہ ان کے حریف کو 91 ووٹ ملے۔ انتخاب میں کامیابی کے لیے 96 ووٹ درکار تھے۔ اس طرح خالد الرحمان نے مطلوبہ اکثریت حاصل کر لی۔اقوام متحدہ کے قواعد کے مطابق جنرل اسمبلی کے صدر کا انتخاب ہر سال تمام رکن ممالک کی خفیہ رائے شماری کے ذریعے کیا جاتا ہے، جس میں ہر ملک کو ایک ووٹ کا حق حاصل ہوتا ہے۔اگرچہ یہ انتخاب بظاہر مسابقتی ہوتا ہے، تاہم عموماً علاقائی گروپوں کے درمیان باری باری صدارت کے اصول پر اتفاق کیا جاتا ہے۔ اس بار 81ویں اجلاس کے لیے ایشیا پیسیفک گروپ کو امیدوار نامزد کرنے کا حق حاصل تھا، جس کے نتیجے میں بنگلہ دیش اور قبرص کے حمایت یافتہ امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوا۔خالد الرحمان ستمبر 2026 میں جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے آغاز پر باضابطہ طور پر عہدہ سنبھالیں گے اور ایک سال تک اس منصب پر فائز رہیں گے۔ اس دوران وہ اجلاسوں کی صدارت، عالمی امور پر مباحثے کی نگرانی اور رکن ممالک کے درمیان مذاکرات کو آگے بڑھانے کی ذمہ داریاں انجام دیں گے۔تجزیہ کاروں کے مطابق یہ کامیابی عالمی سفارت کاری میں بنگلہ دیش کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتی ہے۔ جنرل اسمبلی کی صدارت کو ایک اہم سفارتی منصب سمجھا جاتا ہے جو عالمی امن، ترقی، ماحولیاتی تبدیلی اور اقوام متحدہ کی اصلاحات جیسے اہم امور پر اثر انداز ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے۔دوسری جانب پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے خالد الرحمان کو کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا وسیع سفارتی تجربہ اور کثیرالجہتی تعاون کے لیے وابستگی جنرل اسمبلی کی مؤثر قیادت میں اہم کردار ادا کرے گی۔
بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خالد الرحمان اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
واپس خبروں پر
Category:
عالمی خبریں