تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

بیرسٹر سیف پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان رابطوں میں سہولت کار بن گئے

بیرسٹر سیف پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان رابطوں میں سہولت کار بن گئے

اسلام آباد( پاکستان خبر)پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر محمد علی سیف نے انکشاف کیا ہے کہ وہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی آخری ہدایت کے مطابق پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان رابطوں میں سہولت کاری کا کردار ادا کر رہے ہیں۔دی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر سیف نے کہا کہ وہ عمران خان اور بشری بی بی دونوں کی رہائی کے خواہاں ہیں اور اس مقصد کے لیے جو بھی ممکن کردار ادا کیا جا سکتا ہے، وہ ادا کرنے کو تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ان کے روابط کئی دہائیوں پر محیط ہیں، جنہیں وہ اپنے قائد اور پارٹی کی مدد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔بیرسٹر سیف کی عمران خان سے آخری ملاقات گزشتہ برس 4 نومبر کو اڈیالہ جیل میں ہوئی تھی۔ اگرچہ پی ٹی آئی کو اندرونی طور پر سخت مقف رکھنے والوں اور مفاہمت کے حامیوں کے درمیان منقسم تصور کیا جاتا ہے، تاہم بیرسٹر سیف ان رہنماں میں شامل ہیں جو محاذ آرائی کے بجائے مفاہمت کو ترجیح دیتے ہیں۔انہوں نے گزشتہ ماہ سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں زور دیا تھا کہ پی ٹی آئی اور دفاعی اداروں کے درمیان کشیدگی کسی صورت ملک و قوم کے مفاد میں نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں فریقین کو تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مذاکرات کے ذریعے مسائل کا پائیدار حل تلاش کرنا چاہیے۔بیرسٹر سیف نے مزید کہا تھا کہ باہمی محاذ آرائی اور سڑکوں پر تصادم نہ صرف ملک کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ دشمن قوتوں کو بھی تقویت دیتے ہیں۔ انہوں نے پی ٹی آئی کارکنان اور ریاستی اداروں کے اہلکاروں کو ایک دوسرے کے خلاف نفرت انگیز اور اشتعال انگیز بیانات سے گریز کرنے کا مشورہ دیا تھا اور مفاہمت، اتحاد اور اتفاق رائے کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا تھا۔