تازہ ترین
جسٹس منیب اختر نے قائم مقام چیف جسٹس آف پاکستان کا حلف اٹھا لیا حج 2027ء کے لیے آن لائن رجسٹریشن کا آغاز، ابتدائی مرحلے میں پاسپورٹ لازمی نہیں گلگت بلتستان اسمبلی: 30 نو منتخب ارکان نے حلف اٹھا لیا بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی کوششیں کمزور پڑ گئی ہیں: علی امین گنڈاپور ٹرمپ کی نیٹو اتحادیوں پر تنقید، ایران معاملے پر اٹلی کو بھی ہدف یوکرین جانے والے ترک مال بردار جہاز پر روسی ڈرون حملہ، مصری شہری ہلاک اسماعیل قانی کی اسرائیل کو جنوبی لبنان سے فوری انخلا کی وارننگ ٹیکسٹائل برآمدات میں اضافہ، معیشت کے استحکام کی جانب اہم پیش رفت نیویارک میں کنسرٹ کے دوران افسوسناک حادثہ، ایک شخص جاں بحق ایران امریکا مذاکرات کی افواہیں، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ، ڈالر معمولی سستا ڈیزل کی قیمت میں کمی، ٹرانسپورٹ کرایوں میں 15 فیصد تک کمی کا اعلان ورلڈ کپ 2026 میں اون گولز کی غیر معمولی زیادتی، ریکارڈ ٹوٹنے کا امکان بھارت اے کی ٹرائی سیریز فائنل میں فتح، سری لنکا اے کو 66 رنز سے شکست ورلڈ کپ 2026: جرمن ٹیم کو امریکا میں سخت سیکیورٹی چیک کا سامنا، ویڈیو وائرل ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: بنگلہ دیش نے پاکستان کو 23 رنز سے شکست دے دی
پاکستان خبر

بجٹ اقدامات پر کاروباری برادری کا ردعمل، تنخواہ دار طبقے کو مزید ریلیف دینے کا مطالبہ

بجٹ اقدامات پر کاروباری برادری کا ردعمل، تنخواہ دار طبقے کو مزید ریلیف دینے کا مطالبہ

 اسلام آباد( کامرس ڈیسک)اسلام آباد میں کاروباری برادری کے رہنماؤں نے بجٹ اقدامات پر ردعمل دیتے ہوئے تنخواہ دار طبقے کو مزید ریلیف دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ایس ایم تنویر نے کہا کہ تنخواہ دار طبقے کو اس بار بھی مطلوبہ ریلیف نہیں دیا گیا اور اس میں مزید بہتری کی ضرورت تھی۔انہوں نے کہا کہ پراپرٹی کے لین دین پر ٹیکس میں کمی ایک قابلِ ستائش اقدام ہے، جبکہ لیٹ فائلر کی کیٹگری ختم کرنا بھی ایک مثبت قدم ہے۔ ان کے مطابق زرعی شعبے کی ترقی کے لیے مزید اقدامات ناگزیر ہیں۔ایس ایم تنویر نے یہ بھی کہا کہ تین ہزار ارب روپے کا دفاعی بجٹ موجودہ حالات میں ایک ضرورت ہے۔دوسری جانب عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ حکومت نے کاروباری برادری کی کچھ تجاویز کو بجٹ میں شامل کیا ہے، تاہم پٹرولیم لیوی میں 18 فیصد اضافہ تشویشناک ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کارپوریٹ ٹیکس میں کمی کی تجویز دی گئی تھی لیکن بجٹ میں اس حوالے سے کوئی نمایاں قدم نہیں اٹھایا گیا۔