تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

چینی سیٹلائٹ کے ذریعے امریکی اڈوں کی نگرانی، خفیہ دستاویزات نے تہلکہ مچا دیا

چینی سیٹلائٹ کے ذریعے امریکی اڈوں کی نگرانی، خفیہ دستاویزات نے تہلکہ مچا دیا

 تہر ان( مانیٹرنگ ڈیسک)خفیہ دستاویزات میں انکشاف ہوا ہے کہ ایران نے چینی جاسوس سیٹلائٹ کے ذریعے امریکی فوجی اڈوں کی نگرانی کی اور اہم معلومات حاصل کیں۔برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق 2024 کے اواخر میں چین کا تیار کردہ سیٹلائٹ ٹی ای ای-01 بی ایران کے حوالے کیا گیا، جسے پاسدارانِ انقلاب کی ایرو اسپیس فورس نے حاصل کیا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس سیٹلائٹ کو امریکی فوجی تنصیبات کی نگرانی کے لیے استعمال کیا گیا اور اس کے ذریعے حاصل کی جانے والی تصاویر کو حساس اہداف کی نشاندہی میں استعمال کیا گیا۔مزید کہا گیا ہے کہ یہ تصاویر مارچ میں مختلف مقامات پر ڈرون اور میزائل حملوں سے قبل اور بعد میں لی گئیں، جس سے کارروائیوں کی منصوبہ بندی میں مدد ملی۔سیٹلائٹ نے پرنس سلطان ایئر بیس کی 13، 14 اور 15 مارچ کو تصاویر حاصل کیں، جبکہ 14 مارچ کو ڈونلڈ ٹرمپ نے تصدیق کی تھی کہ اس اڈے پر امریکی طیاروں کو نشانہ بنایا گیا۔رپورٹ کے مطابق اس انکشاف نے خطے میں سکیورٹی خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے اور عالمی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔