کیلیفورنیا (کامرس ڈیسک)ایپل کے سربراہ ٹم کُک نے خبردار کیا ہے کہ میموری اور اسٹوریج چِپس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث کمپنی اپنی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر سکتی ہے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا مراکز کی بڑھتی ہوئی طلب کے باعث عالمی سطح پر میموری چِپس کی سپلائی پر دباؤ بڑھ گیا ہے، جس کے نتیجے میں ان کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ٹم کُک کا کہنا ہے کہ اب تک ایپل اضافی پیداواری لاگت خود برداشت کر کے صارفین کو قیمتوں میں اضافے سے بچانے کی کوشش کرتا رہا ہے، تاہم موجودہ صورتحال میں یہ حکمت عملی جاری رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔انہوں نے ممکنہ قیمتوں میں اضافے کے وقت یا متاثر ہونے والی مصنوعات کے بارے میں تفصیلات نہیں بتائیں، تاہم یہ اشارہ دیا کہ میموری چِپس کی بڑھتی ہوئی قیمتیں کمپنی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہیں۔ایپل کے سربراہ کے مطابق کمپنی میموری سپلائی کو بہتر بنانے کے لیے اپنے مالی وسائل استعمال کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم اپنی میموری یا اسٹوریج فیکٹریاں قائم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔واضح رہے کہ ایپل کمپنی آئندہ ستمبر میں اپنی نئی ڈیوائسز، جن میں فولڈیبل آئی فون اور آئی فون 18 پرو سیریز شامل ہیں، متعارف کروانے کی تیاری کر رہی ہے۔