تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

وزیر اعظم بھی اگر غیر قانونی احکامات دے تو سول سرونٹس ماننے کے پابند نہیں، جسٹس ہاشم کاکڑ

وزیر اعظم بھی اگر غیر قانونی احکامات دے تو سول سرونٹس ماننے کے پابند نہیں، جسٹس ہاشم کاکڑ

اسلام آباد(پاکستان خبر) سپریم کورٹ کے جج جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا ہے کہ وزیر اعظم بھی اگر غیر قانونی احکامات جاری کریں تو سول سرونٹس انہیں ماننے کے پابند نہیں ہیں۔جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے او جی ڈی سی ایل میں غیر قانونی بھرتیوں سے متعلق کیس کی سماعت کی۔ نیب کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سابق وزیر انور سیف اللہ نے چیئرمین OGCL کو بھرتی کے اپوائنٹمنٹ لیٹر جاری کرنے کی ہدایت دی تھی، جبکہ نوکریوں کے لیٹر وفاقی وزیر کے دفتر بھی بھیجے گئے، جبکہ بھرتیوں کا قانونی طریقہ کار اشتہار کے ذریعے ہونا چاہیے تھا۔جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ ہر سرکاری ادارے میں اوور اسٹاف بھرتیاں موجود ہیں اور اگر وزیر اعظم غیر قانونی حکم دے بھی دیں تو سول سرونٹس اسے ماننے کے پابند نہیں ہیں۔ جسٹس صلاح الدین پنور نے کہا کہ وزرا سے عوام نوکریاں طلب کرتے ہیں، جبکہ جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ متعلقہ وفاقی وزیر سزا بھگت چکے ہیں۔سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ پی آئی اے میں اوور بھرتیوں کی وجہ سے نجکاری کرنا پڑی اور یہ بھرتیاں اس وقت ہوئیں جب احتساب کمیشن کا قانون موجود نہیں تھا۔ جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ سزا کا ایک داغ ہے اور پوچھا کہ کیا اتنا کافی نہیں کہ وزیر نے سزا پوری کر لی ہے۔نیب کے وکیل نے عدالت سے درخواست کی کہ نظرثانی درخواست خارج کرکے اصل فیصلہ برقرار رکھا جائے۔ عدالت نے سابق وزیر کی نظرثانی درخواست پر وکلاء کو تیاری کی ہدایت کر دی۔