تازہ ترین
سابق آرمی چیف جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ انتقال کرگئے شہباز شریف کی رانا مبشر اقبال سے خالہ زاد بھائی کے انتقال پر تعزیت عوام کو ریلیف نہ ملا تو فیصلے سڑکوں پر ہوں گے: حافظ نعیم الرحمٰن علیمہ خان، عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی نظربندی میں 30 روز کی توسیع خلائی کچرے سے نمٹنے کے لیے برطانیہ کا روبوٹک مشن تیار کرنے کا منصوبہ یوٹیوب کا نیا فیچر، صارفین اپنی پسند کی ویڈیوز کی فیڈ بنا سکیں گے واٹس ایپ ویب اور ڈیسک ٹاپ کے ذریعے سائبر حملوں کا ہائی الرٹ جاری کلفٹن کے ساحل پر سمندری کچھوا مردہ ملا، پلاسٹک کچرے سے حیات کو خطرہ فیشن شو میں عفت عمر کے ساتھ دلچسپ واقعہ، ویڈیو وائرل ہونے پر ٹرولنگ دانیال ظفر کا صحت پر توجہ دینے کیلئے شوبز سے عارضی وقفے کا اعلان درفشاں سلیم اور ماورا حسین کے لہنگوں میں مماثلت، تصاویر وائرل ابتدائی فلموں کی ناکامی نے فلمی کیریئر متاثر کیا، دیا مرزا کا انکشاف ایل کلاسیکو: ریال میڈرڈ نے بارسلونا کی مسلسل فتوحات کا سلسلہ روک دیا سہ ملکی سیریز: حارث رؤف کے مشورے پر شاداب خان نے ریویو لیا صائم ایوب کی درخواست منظور، صاحبزادہ فرحان قومی اسکواڈ میں شامل دنیا کا ہر بولر چھکے کھاتا ہے، تنقید سے فرق نہیں پڑتا: حارث رؤف
پاکستان خبر

کلفٹن کے ساحل پر سمندری کچھوا مردہ ملا، پلاسٹک کچرے سے حیات کو خطرہ

کلفٹن کے ساحل پر سمندری کچھوا مردہ ملا، پلاسٹک کچرے سے حیات کو خطرہ

کراچی ( ویب ڈیسک)کلفٹن کے ساحل پر اولیو ریڈلے نسل کا ایک سمندری کچھوا مردہ حالت میں پایا گیا ہے، جس کی موت کی حتمی وجہ تاحال معلوم نہیں ہوسکی۔رپورٹ کے مطابق یہ کچھوے بحیرۂ عرب میں پائے جاتے ہیں، تاہم گزشتہ دو دہائیوں کے دوران ان کی پاکستان کے ساحلوں، خصوصاً کراچی، کا رخ کرکے افزائشِ نسل کرنے کی تعداد میں کمی آئی ہے۔ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ مردہ کچھوا سمندر یا ماہی گیری کے جال میں پھنسنے کے باعث ہلاک ہوا۔حالیہ دنوں میں جیوانی کے قریب ماہی گیروں کے جال میں پھنسنے والے 2 اولیو ریڈلے کچھوؤں کو بحفاظت واپس سمندر میں چھوڑ دیا گیا تھا۔یہ نسل افزائشِ نسل اور خوراک کی تلاش میں ہزاروں میل کا سفر کرتی ہے۔ پڑوسی ملک میں ایک کچھوے پر جی پی ایس ٹیگ لگا کر تحقیق کی گئی، جس سے معلوم ہوا کہ اس نے بحیرۂ عرب عبور کرکے عمان میں افزائشِ نسل کے لیے قیام کیا۔فشرمین سجاگ فورم نے کلفٹن کے ساحل پر کچھوے کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سمندر میں پلاسٹک کی تھیلیاں اور کچرا آبی حیات کی بقا کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔فورم کے چیئرمین کے مطابق سمندری حیات کا تحفظ اور ماہی گیروں کے روزگار کے مواقع برقرار رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے پاکستان میں بھی سمندری کچھوؤں کی نقل و حرکت اور ان کی بقا سے متعلق تحقیق کی ضرورت پر زور دیا۔