ممبئی( شو بز ڈیسک)بالی ووڈ اداکارہ دیا مرزا نے انکشاف کیا ہے کہ ابتدائی فلموں کی باکس آفس پر ناکامی کے بعد انہیں فیچر فلموں سے دور کردیا گیا تھا، جو ان کے لیے ایک بڑا جذباتی دھچکا تھا۔عرب میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے اداکارہ نے بتایا کہ نوجوانی میں خواب پورے کرنے کی خواہش رکھنے والے فنکار کے لیے اس طرح کی صورت حال سے گزرنا آسان نہیں ہوتا۔دیا مرزا کے مطابق 2004ء اور 2005ء کے دوران انہوں نے شہرت کے پیچھے بھاگنے کے بجائے ایسے منصوبوں پر توجہ دینا شروع کی جن کی کہانی اور مقصد ان کے لیے اہم تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ مادی کامیابی سے زیادہ اپنے کام میں معنی اور مقصد کو ترجیح دیتی ہیں۔اداکارہ نے بتایا کہ 24 برس کی عمر میں فلم پروڈکشن کے شعبے میں قدم رکھنے کا مقصد اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے لیے خود مواقع پیدا کرنا تھا، کیونکہ انہیں محسوس ہوا کہ اگر انڈسٹری میں مناسب جگہ نہیں ملتی تو انہیں اپنا راستہ خود بنانا چاہیے۔کرداروں کے انتخاب سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ وہ اس بات کو اہمیت نہیں دیتیں کہ کردار مرکزی ہے یا معاون، بلکہ اس کی گہرائی اور کہانی میں اہمیت کو ترجیح دیتی ہیں۔بھارتی فلموں میں خواتین کی نمائندگی پر گفتگو کرتے ہوئے دیا مرزا نے کہا کہ گزشتہ دہائی کے دوران مردوں کی بالادستی اور خواتین کے خلاف تعصب سے متعلق شعور میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے ہدایت کار انوبھو سنہا کی فلم ’تھپڑ‘ کو اس حوالے سے ایک مثال قرار دیا۔اداکارہ نے نوجوان فنکاروں کو مشورہ دیا کہ کیریئر کی کوئی مقررہ مدت نہیں ہوتی۔ ان کے مطابق مسلسل سیکھنے، محنت اور دیانت داری سے کام کرنے والے افراد ابتدائی ناکامیوں کے باوجود آگے بڑھ سکتے ہیں۔