لاہور (پاکستان خبر)امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے خبردار کیا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے لیے تیار ہیں، تاہم عوام کو ریلیف نہ ملا تو اس کے بعد ملاقات نہیں ہوگی اور فیصلے سڑکوں پر ہوں گے۔منصورہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ پیٹرولیم لیوی مکمل ختم کردی جائے اور ریفائنریوں کے ناجائز منافع کا خاتمہ ہو تو پیٹرول کی قیمت 225 روپے فی لیٹر تک آسکتی ہے۔ جماعت اسلامی اس معاملے پر طویل عرصے سے جدوجہد کررہی ہے اور احتجاج، جلسوں اور دستخطی مہم کے ذریعے عوام کو ریلیف دینے کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے احتجاج کے بعد پیٹرول کی قیمتوں میں ریلیف دیا، تاہم یہ کافی نہیں۔ حکومت آئی ایم ایف کا بہانہ بنا کر پیٹرولیم لیوی ختم کرنے سے گریز کررہی ہے، جبکہ عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھ رہا ہے اور مختلف شعبوں کے منافع میں اضافہ ہورہا ہے۔حافظ نعیم الرحمٰن کے مطابق ڈیزل کی قیمت بڑھنے سے اشیائے ضروریہ مہنگی ہوجاتی ہیں، لیکن حکومتی اخراجات کم نہیں کیے جارہے۔ انہوں نے سود کے خاتمے، بینکوں کے بڑھتے اثرورسوخ اور بجلی، آٹا، چینی اور ریفائنریوں سے وابستہ مفادات پر بھی تنقید کی۔انہوں نے کہا کہ حکومتی پالیسیوں کے باعث عوام میں غم و غصہ بڑھ رہا ہے اور حکومت کو جماعت اسلامی کی تجاویز پر عمل کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم سے ملاقات کے روز ہی شام کو اہم اعلان کیا جائے گا۔فلسطین کی صورتِ حال پر گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمٰن نے فلسطینیوں کی بے دخلی اور اسرائیلی مظالم روکنے کے لیے مؤثر اقدامات نہ ہونے پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔