تازہ ترین
صدر اور وزیراعظم کا یوم سیاہ کشمیر پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی پاکستان ہر عالمی فورم پر کشمیریوں کی آواز بلند کرتا رہے گا، اسحاق ڈار یوم سیاہ کشمیر پر آئی ایس پی آر کا خصوصی نغمہ جاری کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں، عالمی برادری سے حق خودارادیت کا مطالبہ ایران کا مکہ دفاعی اتحاد کے رکن ممالک سے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق مغربی کنارے میں اسرائیل پر انسانیت کے خلاف جرائم کا الزام ایرانی فنڈنگ کے بعد حزب اللہ کی ممکنہ جنگ کیلئے تیاریاں دبئی میں غلط جگہ سے سڑک پار کرنے پر 30 ہزار روپے جرمانہ 5 سال میں 11 ہزار ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ دیے جانے کا انکشاف سنگاپور اور سعودی آرامکو کا 2027 سے زیرِ سمندر تیل ذخیرہ کرنے کا منصوبہ ملک بھر میں ایل پی جی مہنگی، لاہور اور جڑواں شہروں میں 600 روپے فی کلو ویمنز ایمرجنگ نیشنز ٹرافی، منیبہ علی پاکستان ٹیم کی کپتان مقرر مقامی ایل پی جی کی نصف سے زائد پیداوار پر 45 کمپنیوں کی اجارہ داری پاتھم نسانکا انجری کے باعث پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے باہر پاکستان نے ورلڈ نو میڈ ایم ایم اے ٹورنامنٹ میں دوسری پوزیشن حاصل کرلی ٹینس اسٹار ارینا سبالنکا یو ایف سی مقابلے دیکھنے ابو ظبی پہنچ گئیں
پاکستان خبر

توانائی بحران فوری ختم نہیں ہوگا، یورپی یونین

توانائی بحران فوری ختم نہیں ہوگا، یورپی یونین

برسلز ( کامرس ڈیسک) یورپی یونین نے خبردار کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کھولنے پر اتفاق کے باوجود توانائی کا عالمی بحران فوری طور پر ختم ہونے کا امکان نہیں۔یورپی کمیشن کی ترجمان اینا کائیسا ایٹکونین نے میڈیا بریفنگ میں کہا کہ اہم بحری گزرگاہ میں کشیدگی میں کمی کے باوجود توانائی کی منڈیوں میں صورتحال جلد معمول پر نہیں آئے گی۔انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ بحران کے جلد خاتمے کی توقع نہیں رکھنی چاہیے کیونکہ اس تعطل نے عالمی سپلائی چین کی کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا ہے اور اس کے اثرات طویل عرصے تک رہ سکتے ہیں۔ترجمان کے مطابق یورپی یونین کی ایل این جی درآمدات کا تقریباً آٹھ اعشاریہ پانچ فیصد حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے جبکہ خطے کے ممالک سے آنے والا تیل بھی بڑی حد تک اسی راستے پر منحصر ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ جیٹ فیول اور ڈیزل سمیت ریفائن ایندھن کی درآمدات کا بڑا حصہ بھی اسی بحری راستے سے ہوتا ہے، جس کے باعث اس گزرگاہ کی بندش یا محدود فعالیت عالمی منڈیوں پر فوری اثر ڈالتی ہے۔یورپی یونین کے مطابق دنیا بھر میں تیل اور گیس کی ترسیل کا تقریباً بیس فیصد حصہ آبنائے ہرمز سے ہوتا ہے، اس لیے حالیہ کشیدگی نے توانائی کی قیمتوں پر نمایاں دباؤ ڈالا ہے۔