تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

توانائی بحران فوری ختم نہیں ہوگا، یورپی یونین

توانائی بحران فوری ختم نہیں ہوگا، یورپی یونین

برسلز ( کامرس ڈیسک) یورپی یونین نے خبردار کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کھولنے پر اتفاق کے باوجود توانائی کا عالمی بحران فوری طور پر ختم ہونے کا امکان نہیں۔یورپی کمیشن کی ترجمان اینا کائیسا ایٹکونین نے میڈیا بریفنگ میں کہا کہ اہم بحری گزرگاہ میں کشیدگی میں کمی کے باوجود توانائی کی منڈیوں میں صورتحال جلد معمول پر نہیں آئے گی۔انہوں نے واضح کیا کہ موجودہ بحران کے جلد خاتمے کی توقع نہیں رکھنی چاہیے کیونکہ اس تعطل نے عالمی سپلائی چین کی کمزوریوں کو بے نقاب کر دیا ہے اور اس کے اثرات طویل عرصے تک رہ سکتے ہیں۔ترجمان کے مطابق یورپی یونین کی ایل این جی درآمدات کا تقریباً آٹھ اعشاریہ پانچ فیصد حصہ آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے جبکہ خطے کے ممالک سے آنے والا تیل بھی بڑی حد تک اسی راستے پر منحصر ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ جیٹ فیول اور ڈیزل سمیت ریفائن ایندھن کی درآمدات کا بڑا حصہ بھی اسی بحری راستے سے ہوتا ہے، جس کے باعث اس گزرگاہ کی بندش یا محدود فعالیت عالمی منڈیوں پر فوری اثر ڈالتی ہے۔یورپی یونین کے مطابق دنیا بھر میں تیل اور گیس کی ترسیل کا تقریباً بیس فیصد حصہ آبنائے ہرمز سے ہوتا ہے، اس لیے حالیہ کشیدگی نے توانائی کی قیمتوں پر نمایاں دباؤ ڈالا ہے۔