تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

ایپسٹین اسکینڈل: شہزادہ اینڈریو شاہی لاج سے نکالے گئے

ایپسٹین اسکینڈل: شہزادہ اینڈریو شاہی لاج سے نکالے گئے

لندن( مانیٹرنگ ڈیسک)ایپسٹین اسکینڈل سے متعلق تازہ دستاویزات سامنے آنے کے بعد برطانوی شاہی خاندان کے سابق رکن شہزادہ اینڈریو ماؤنٹ بیٹن ونزر کو شاہی لاج سے نکال دیا گیا ہے۔برطانوی میڈیا کے مطابق یہ فیصلہ نئی دستاویزات میں سامنے آنے والے الزامات کی بنیاد پر کیا گیا، جبکہ کنگ چارلس نے بھی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس کے بعد شہزادہ اینڈریو کو سینڈرنگھم منتقل کر دیا گیا ہے، اور شاہی خاندان نے اس معاملے میں فاصلہ اختیار کیا ہے۔امریکا میں ایپسٹین اسکینڈل کی تحقیقات میں تیزی آ گئی ہے اور سابق امریکی صدر بل کلنٹن اور سابق خاتونِ اول ہلیری کلنٹن کانگریس میں گواہی دینے کے لیے آمادہ ہیں۔ امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ شہزادہ اینڈریو امریکا آ کر بیان دیں۔ادھر برطانوی پولیس تحقیقات کر رہی ہے کہ ڈیوک آف یارک کے دور میں ایک اور کم عمر لڑکی کو مبینہ طور پر جہاز کے ذریعے برطانیہ لایا گیا تھا۔ تحقیقات شواہد کی بنیاد پر آگے بڑھائی جا رہی ہیں۔میڈیا رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایک ای میل میں شہزادہ اینڈریو نے جیفری ایپسٹین سے غیر مناسب نوعیت کی بات چیت کی تھی، جسے تحقیقات میں شامل کیا گیا۔ اس معاملے پر برطانیہ کی میٹروپولیٹن پولیس نے سیاستدان لارڈ مینڈلسن کے خلاف بھی مجرمانہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ لارڈ مینڈلسن پر الزام ہے کہ انہوں نے ایپسٹین کو اہم معلومات فراہم کیں، جس کے بعد وہ ہاؤس آف لارڈز سے مستعفی ہو گئے۔