تازہ ترین
آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت مومنہ اقبال ہراسانی کیس: ثاقب چدھڑ اور اہلیہ کی ضمانت میں توسیع سوہائے علی ابڑو نے علیحدگی کی افواہوں کی تردید کر دی کبریٰ خان کی سارہ علی خان اور شرمیلا ٹیگور کے ساتھ ویڈیووائرل شہرت عارضی ہے:ماہرہ خان کا انکشاف
پاکستان خبر

انتہا پسند سوچ یورپ کے لیے ایک سنجیدہ سیکیورٹی چیلنج بن گئی

انتہا پسند سوچ یورپ کے لیے ایک سنجیدہ سیکیورٹی چیلنج بن گئی

 کابل( ماینٹرنگ ڈیسک)افغانستان میں طالبان کے اقتدار کے بعد جنم لینے والی انتہا پسند سوچ یورپ کے لیے ایک سنجیدہ سیکیورٹی چیلنج بنتی جا رہی ہے۔ حالیہ واقعات کے بعد یورپی ممالک میں مہاجرین سے متعلق سیکیورٹی خدشات میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جرمنی کے شہر میونخ میں ہجوم پر گاڑی چڑھانے کے واقعے میں ملوث افغان شہری کے خلاف عدالت میں باقاعدہ سماعت شروع ہو گئی ہے۔ استغاثہ کا مقف ہے کہ ملزم نے دانستہ طور پر لوگوں کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں ایک خاتون اور اس کی کمسن بیٹی جان سے گئیں جبکہ متعدد افراد شدید زخمی ہوئے۔عدالتی ریکارڈ کے مطابق ملزم پر اس سے قبل بھی سنگین جرائم اور کئی افراد کو نشانہ بنانے کی کوششوں کے الزامات عائد کیے جا چکے ہیں۔ واقعے کے بعد جرمن چانسلر نے واضح کیا ہے کہ مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت اور فیصلہ کن کارروائی کی جائے گی۔یاد رہے کہ اس واقعے سے قبل بھی جرمنی اور دیگر مغربی ممالک میں ایسے حملے سامنے آ چکے ہیں جن کے بعد امیگریشن پالیسی اور سیکیورٹی اسکریننگ پر بحث مزید تیز ہو گئی ہے۔ یورپی حکام کا کہنا ہے کہ عام شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے نگرانی اور جانچ کے نظام کو مزید مثر بنایا جا رہا ہے۔