تازہ ترین
پاکستان کی آبی سلامتی، عالمی فورمز سے رجوع کی درخواست مقرر راولپنڈی میں 6 ماہ کیلئے پاک فوج تعینات کرنے کی منظوری وزیراعظم کی سیلاب متاثرین کے خاندانوں اور تباہ شدہ گھروں کیلئے مالی امداد کی ہدایت عمران خان کی اسپتال منتقلی: عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست بنگلادیش کا پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی فریم ورک میں شمولیت پر مثبت عندیہ راجستھان میں کاکروچ جنتا پارٹی کارکنوں پر حملے کا الزام، بی جے پی سے وابستگی کا دعویٰ افغانستان میں طالبان مخالف مسلح مزاحمت میں تیزی، بدخشاں میں حملے عالمی میڈیا نے بھارتی دہشتگردی کے چہرے کو بے نقاب کردیا پاکستان میں ورچوئل اثاثہ جات کیلئے لائسنسنگ نظام متعارف آئی ایم ایف شرط پر اربوں ڈالر کی درآمدی بے ضابطگیاں دور، ڈیٹا اپ ڈیٹ درآمدی چینی میں سے ایک لاکھ 8 ہزار ٹن برآمد کرنے کا فیصلہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی، 100 انڈیکس 2938 پوائنٹس گر گیا ورلڈ کپ فائنل جھگڑا، فیفا نے ارجنٹینا اور اسپین کے کھلاڑیوں پر پابندیاں لگا دیں ورلڈ تائیکوانڈو کپ: ایران مجموعی طور پر فاتح، پومزے میں پاکستان کی حکمرانی مچل اسٹارک کی تباہ کن بولنگ، بنگلا دیش 64 رنز پر ڈھیر لیڈز ٹیسٹ میں شکست، سلمان علی آغا نے ٹیم کی خامیوں کی نشاندہی کردی
پاکستان خبر

انتہا پسند سوچ یورپ کے لیے ایک سنجیدہ سیکیورٹی چیلنج بن گئی

انتہا پسند سوچ یورپ کے لیے ایک سنجیدہ سیکیورٹی چیلنج بن گئی

 کابل( ماینٹرنگ ڈیسک)افغانستان میں طالبان کے اقتدار کے بعد جنم لینے والی انتہا پسند سوچ یورپ کے لیے ایک سنجیدہ سیکیورٹی چیلنج بنتی جا رہی ہے۔ حالیہ واقعات کے بعد یورپی ممالک میں مہاجرین سے متعلق سیکیورٹی خدشات میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جرمنی کے شہر میونخ میں ہجوم پر گاڑی چڑھانے کے واقعے میں ملوث افغان شہری کے خلاف عدالت میں باقاعدہ سماعت شروع ہو گئی ہے۔ استغاثہ کا مقف ہے کہ ملزم نے دانستہ طور پر لوگوں کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں ایک خاتون اور اس کی کمسن بیٹی جان سے گئیں جبکہ متعدد افراد شدید زخمی ہوئے۔عدالتی ریکارڈ کے مطابق ملزم پر اس سے قبل بھی سنگین جرائم اور کئی افراد کو نشانہ بنانے کی کوششوں کے الزامات عائد کیے جا چکے ہیں۔ واقعے کے بعد جرمن چانسلر نے واضح کیا ہے کہ مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت اور فیصلہ کن کارروائی کی جائے گی۔یاد رہے کہ اس واقعے سے قبل بھی جرمنی اور دیگر مغربی ممالک میں ایسے حملے سامنے آ چکے ہیں جن کے بعد امیگریشن پالیسی اور سیکیورٹی اسکریننگ پر بحث مزید تیز ہو گئی ہے۔ یورپی حکام کا کہنا ہے کہ عام شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے نگرانی اور جانچ کے نظام کو مزید مثر بنایا جا رہا ہے۔