تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

ایف بی آر کی محصولات میں 868 ارب روپے کی کمی، مالی دباؤ بڑھ گیا

ایف بی آر کی محصولات میں 868 ارب روپے کی کمی، مالی دباؤ بڑھ گیا

 اسلام آباد( کامرس ڈیسک) فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو مالی سال 2025-26 کے پہلے گیارہ ماہ کے دوران محصولات میں 868 ارب روپے کی کمی کا سامنا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق جولائی تا مئی کے دوران ایف بی آر نے 12,095 ارب روپے کے نظرثانی شدہ ہدف کے مقابلے میں 11,227 ارب روپے جمع کیے، جس کے باعث نمایاں شارٹ فال سامنے آیا۔ذرائع کے مطابق اس کمی کی بڑی وجوہات میں معاشی سرگرمیوں میں سست روی اور عید کی طویل تعطیلات شامل ہیں، جنہوں نے ٹیکس وصولیوں پر منفی اثر ڈالا۔مئی 2026 کے دوران بھی محصولات کا فرق بڑھ کر 184 ارب روپے تک پہنچ گیا، جب کہ اس ماہ کے لیے مقررہ ہدف 1,150 ارب روپے تھا۔ایف بی آر حکام کے مطابق حتمی اعداد و شمار آنے تک کچھ مزید وصولیاں متوقع ہیں، تاہم مجموعی طور پر ہدف کا حصول ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔نظرثانی شدہ سالانہ ہدف 13,979 ارب روپے حاصل کرنے کے لیے جون 2026 میں تقریباً 2,752 ارب روپے اکٹھے کرنا ہوں گے، جو موجودہ صورتحال میں مشکل دکھائی دے رہا ہے۔حکام کے مطابق اگر مجموعی وصولیاں 13,000 ارب روپے تک بھی پہنچ جاتی ہیں تو اسے جزوی کامیابی تصور کیا جائے گا، تاہم ہدف اور وصولیوں کے درمیان واضح فرق مالی دباؤ کو ظاہر کرتا ہے۔