تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

ملک بھر میں آٹے کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

ملک بھر میں آٹے کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

 اسلام آباد( کامرس ڈیسک)ملک میں آٹے کے بحران اور قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث 20 کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 2800 روپے کی بلند ترین سطح تک جا پہنچی ہے۔نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ادارہ شماریات کی حالیہ دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ کراچی کے شہری سب سے مہنگا آٹا خریدنے پر مجبور ہیں، جہاں 20 کلو آٹے کا تھیلا 2800 روپے میں دستیاب ہے۔اسی طرح پشاور میں یہی تھیلا 2750 روپے، اسلام آباد میں 2733 روپے جبکہ راولپنڈی میں اس کی قیمت 2707 روپے تک پہنچ چکی ہے۔کوئٹہ اور بنوں میں بھی 20 کلو آٹے کی قیمت تقریباً 2700 روپے تک جا پہنچی ہے۔ دیگر شہروں میں حیدرآباد میں قیمت 2600 روپے، خضدار اور لاڑکانہ میں 2400 روپے، فیصل آباد میں 2350 روپے جبکہ گجرانوالہ میں 2333 روپے مقرر کی گئی ہے۔ادھر ملتان اور لاہور میں بھی آٹے کے نرخوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ دستاویزات کے مطابق ملتان میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 2267 روپے تک پہنچ گیا ہے جبکہ لاہور میں یہ قیمت 2250 روپے ریکارڈ کی گئی ہے، جس سے عام شہری پر مہنگائی کا بوجھ مزید بڑھ گیا ہے۔آٹے کی قیمتوں میں اس غیر معمولی اضافے کے باعث عام آدمی کی قوتِ خرید شدید متاثر ہو رہی ہے۔ماہرینِ معیشت کے مطابق گندم کی ترسیل میں رکاوٹیں اور ذخیرہ اندوزی پر مؤثر کارروائی نہ ہونا اس بحران کی بنیادی وجوہات ہیں، جن پر فوری قابو پانے کی ضرورت ہے۔