چھتیس گڑھ(مانیٹرنگ ڈیسک)بھارتی ریاست چھتیس گڑھ میں ریت کی کان کنی سے متعلق پرانا تنازع شدت اختیار کر گیا، جس کے نتیجے میں ایک افسوسناک واقعے میں فورچیونر گاڑی میں سوار چار افراد کو پیٹرول چھڑک کر زندہ جلا دیا گیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے مقامی رہنما بھارت سنگھ المعروف للّا سنگھ سمیت تین دیگر افراد شامل ہیں۔یہ واقعہ منگل اور بدھ کی درمیانی رات پیش آیا۔ اہلِ خانہ کے مطابق بھارت سنگھ تنازع کے تصفیے کے لیے گیا تھا، تاہم اسے مبینہ طور پر گھات لگا کر نشانہ بنایا گیا۔پولیس کے مطابق حملے کے دوران گاڑی کو آگے اور پیچھے سے ٹرکوں کے ذریعے روکا گیا، جس کے بعد اسے آگ لگا دی گئی۔ واقعے میں چار افراد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے جبکہ ایک شخص مایانک سنگھ شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔رپورٹس کے مطابق پولیس نے چار ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ دیگر کی تلاش جاری ہے۔ مقدمے میں مجموعی طور پر نو افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ واقعہ علاقے میں ریت کی کان کنی اور اس کی ترسیل سے جڑے تنازع کا نتیجہ بتایا جا رہا ہے، جس میں دو گروہوں کے درمیان پرانی دشمنی اور اثر و رسوخ کی کشمکش بھی شامل تھی۔حکام کے مطابق واقعے سے قبل دونوں فریقین کے درمیان جھگڑے اور قانونی مقدمات بھی درج تھے، جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔