تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

چھتیس گڑھ: ریت کی کان کنی تنازع پر 4 افراد زندہ جل کر ہلاک

چھتیس گڑھ: ریت کی کان کنی تنازع پر 4 افراد زندہ جل کر ہلاک

چھتیس گڑھ(مانیٹرنگ ڈیسک)بھارتی ریاست چھتیس گڑھ میں ریت کی کان کنی سے متعلق پرانا تنازع شدت اختیار کر گیا، جس کے نتیجے میں ایک افسوسناک واقعے میں فورچیونر گاڑی میں سوار چار افراد کو پیٹرول چھڑک کر زندہ جلا دیا گیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے مقامی رہنما بھارت سنگھ المعروف للّا سنگھ سمیت تین دیگر افراد شامل ہیں۔یہ واقعہ منگل اور بدھ کی درمیانی رات پیش آیا۔ اہلِ خانہ کے مطابق بھارت سنگھ تنازع کے تصفیے کے لیے گیا تھا، تاہم اسے مبینہ طور پر گھات لگا کر نشانہ بنایا گیا۔پولیس کے مطابق حملے کے دوران گاڑی کو آگے اور پیچھے سے ٹرکوں کے ذریعے روکا گیا، جس کے بعد اسے آگ لگا دی گئی۔ واقعے میں چار افراد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے جبکہ ایک شخص مایانک سنگھ شدید زخمی حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔رپورٹس کے مطابق پولیس نے چار ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ دیگر کی تلاش جاری ہے۔ مقدمے میں مجموعی طور پر نو افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ واقعہ علاقے میں ریت کی کان کنی اور اس کی ترسیل سے جڑے تنازع کا نتیجہ بتایا جا رہا ہے، جس میں دو گروہوں کے درمیان پرانی دشمنی اور اثر و رسوخ کی کشمکش بھی شامل تھی۔حکام کے مطابق واقعے سے قبل دونوں فریقین کے درمیان جھگڑے اور قانونی مقدمات بھی درج تھے، جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔