تازہ ترین
آزاد کشمیر انتخابات: 30 ہزار سرکاری ملازمین نے ووٹ ڈال دیے خیبرپختونخوا میں تعلیمی منصوبوں کی تاخیر، لاگت میں کروڑوں کا اضافہ مون سون تباہی، مختلف علاقوں میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے نقصانات عمران خان سے ملاقاتوں کا ریکارڈ طلب، سپریم کورٹ کا جیل انتظامیہ کو حکم اگر ایران اپنے طرزِ عمل میں تبدیلی لاتا ہے تو سفارت کاری کا راستہ کھلا ہے: امریکہ بھارت امریکا تعلقات میں سرد مہری، مودی حکومت کی پالیسیوں پر سوالات بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی تحریک زور پکڑنے لگی بھارت میں ’کاکروچ تحریک‘ کا احتجاج جاری، پارلیمان مارچ کی تیاری پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں مندی، ہنڈرڈ انڈیکس میں 2 ہزار سے زائد پوائنٹس کی کمی کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے پاکستان کا درآمدی بل 16.86 ارب ڈالر تک پہنچ گیا پاکستانی فری لانسرز نے 1.76 ارب ڈالر کما کر نیا ریکارڈ قائم کردیا اسپین اضافی وقت میں ارجنٹینا کو ہرا کر دوسری بار عالمی چیمپئن بن گیا لامین یمال کا ننھے بھائی کے ساتھ جشن سوشل میڈیا پر وائرل لامین یمال اور ٹرمپ کا مصافحہ سوشل میڈیا پر وائرل ورلڈ کپ جیتنے پر اسپین کو 5 کروڑ ڈالر کا انعام
پاکستان خبر

غزہ میں طبی بحران شدت اختیار کر گیا، 17 ہزار مریض بیرونِ ملک علاج سے محروم

غزہ میں طبی بحران شدت اختیار کر گیا، 17 ہزار مریض بیرونِ ملک علاج سے محروم

غزہ ( مانیٹرنگ ڈیسک)غزہ کی وزارتِ صحت نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل ایسے تقریباً 17 ہزار فلسطینی مریضوں کو بیرونِ ملک علاج کے لیے جانے سے روک رہا ہے جنہیں فوری طبی امداد کی ضرورت ہے۔عرب میڈیا کے مطابق اکتوبر 2023 سے جاری جنگ کے دوران غزہ کا صحت کا نظام شدید تباہی سے دوچار ہو چکا ہے، جس کے باعث مریضوں کے علاج میں تاخیر انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بن رہی ہے۔غزہ کی وزارتِ صحت کے قائم مقام سیکریٹری ماہر شامیہ نے بتایا کہ رفح کی سرحدی گزرگاہ فروری میں جزوی طور پر کھولی گئی تھی، تاہم اسے متعدد بار عارضی طور پر بند بھی کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں کو ہفتے میں محدود دنوں کے لیے غزہ سے باہر جانے کی اجازت دی جاتی ہے، جبکہ طبی انخلاء کے لیے کرم ابو سالم کی گزرگاہ بھی انتہائی محدود وقت کے لیے کھولی جاتی ہے۔ماہر شامیہ کے مطابق مسلسل بندشوں کے باعث مریض شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں اور اس صورتحال کی ذمہ داری اسرائیل پر عائد ہوتی ہے۔انہوں نے انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ دباؤ ڈالیں تاکہ مریضوں کو علاج کے لیے آزادانہ نقل و حرکت دی جا سکے۔دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ کی تمام سرحدی گزرگاہیں فوری طور پر کھولی جائیں اور انسانی امداد کی بلا رکاوٹ ترسیل یقینی بنائی جائے۔اقوام متحدہ اور یورپی یونین کی ایک مشترکہ رپورٹ کے مطابق غزہ کی ترقی دہائیوں پیچھے جا چکی ہے اور بحالی کے لیے اربوں ڈالرز کی ضرورت ہو گی، جبکہ بنیادی ڈھانچے اور معیشت کی بحالی کے لیے بھی بھاری فنڈنگ درکار ہے۔