تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

غزہ میں طبی بحران شدت اختیار کر گیا، 17 ہزار مریض بیرونِ ملک علاج سے محروم

غزہ میں طبی بحران شدت اختیار کر گیا، 17 ہزار مریض بیرونِ ملک علاج سے محروم

غزہ ( مانیٹرنگ ڈیسک)غزہ کی وزارتِ صحت نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل ایسے تقریباً 17 ہزار فلسطینی مریضوں کو بیرونِ ملک علاج کے لیے جانے سے روک رہا ہے جنہیں فوری طبی امداد کی ضرورت ہے۔عرب میڈیا کے مطابق اکتوبر 2023 سے جاری جنگ کے دوران غزہ کا صحت کا نظام شدید تباہی سے دوچار ہو چکا ہے، جس کے باعث مریضوں کے علاج میں تاخیر انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بن رہی ہے۔غزہ کی وزارتِ صحت کے قائم مقام سیکریٹری ماہر شامیہ نے بتایا کہ رفح کی سرحدی گزرگاہ فروری میں جزوی طور پر کھولی گئی تھی، تاہم اسے متعدد بار عارضی طور پر بند بھی کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں کو ہفتے میں محدود دنوں کے لیے غزہ سے باہر جانے کی اجازت دی جاتی ہے، جبکہ طبی انخلاء کے لیے کرم ابو سالم کی گزرگاہ بھی انتہائی محدود وقت کے لیے کھولی جاتی ہے۔ماہر شامیہ کے مطابق مسلسل بندشوں کے باعث مریض شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں اور اس صورتحال کی ذمہ داری اسرائیل پر عائد ہوتی ہے۔انہوں نے انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ دباؤ ڈالیں تاکہ مریضوں کو علاج کے لیے آزادانہ نقل و حرکت دی جا سکے۔دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ کی تمام سرحدی گزرگاہیں فوری طور پر کھولی جائیں اور انسانی امداد کی بلا رکاوٹ ترسیل یقینی بنائی جائے۔اقوام متحدہ اور یورپی یونین کی ایک مشترکہ رپورٹ کے مطابق غزہ کی ترقی دہائیوں پیچھے جا چکی ہے اور بحالی کے لیے اربوں ڈالرز کی ضرورت ہو گی، جبکہ بنیادی ڈھانچے اور معیشت کی بحالی کے لیے بھی بھاری فنڈنگ درکار ہے۔