تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

مغربی کنارے میں اسرائیلی اقدامات پر عالمی ردعمل، فلسطینی علاقوں میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ

مغربی کنارے میں اسرائیلی اقدامات پر عالمی ردعمل، فلسطینی علاقوں میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ

یروشلم( مانیٹرنگ ڈیسک) مغربی کنارے میں زمین کو نام نہاد ’ریاستی اراضی‘ قرار دینے کے اسرائیلی اقدام پر دنیا بھر کے تقریباً 100 ممالک اور تین بڑے عالمی و علاقائی بلاکس نے سخت ردعمل دیا ہے۔عرب لیگ، یورپی یونین اور او آئی سی نے اسرائیل سے اس فیصلے کو فوری واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ فلسطینی مشن کے مطابق یہ اقدام مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی کنٹرول کو مزید مضبوط کرنے اور دو ریاستی حل کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔آٹھ رکنی مسلم بلاک کے وزرائے خارجہ نے بھی مغربی کنارے میں زمین کی رجسٹریشن اور آبادکاری کے نئے طریقہ کار کی منظوری کی مذمت کی ہے۔ اسرائیلی کابینہ نے گزشتہ ہفتے ایسے اقدامات کی منظوری دی، جس کے تحت ویسٹ بینک کے ایریاز اے اور بی میں اسرائیلی سول اختیار کو بڑھایا جائے گا، جو مجموعی طور پر تقریباً 40 فیصد علاقے پر محیط ہیں۔اسرائیلی این جی او ’پیس ناؤ‘ نے خبردار کیا ہے کہ حکومت کی نئی منصوبہ بندی یروشلم کی حدود کو مغربی کنارے تک وسعت دینے کے مترادف ہو سکتی ہے۔ یہ توسیع جیووا بنیامین نامی بستی کے مغرب کی جانب ہوگی اور اسے یروشلم سے جوڑا جائے گا۔ادھر مشرقی یروشلم میں واقع مسجد اقصیٰ کے سینئر امام شیخ محمد العباسی نے کہا ہے کہ اسرائیلی حکام نے انہیں مسجد کے احاطے میں داخلے سے ایک ہفتے کے لیے روک دیا ہے اور اس پابندی میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔ یہ اقدام ماہ رمضان سے چند روز قبل سامنے آیا ہے۔اسرائیلی پولیس کے مطابق مغربی کنارے کے فلسطینیوں کے لیے یروشلم داخلے کے 10 ہزار اجازت نامے جاری کیے جا رہے ہیں، تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق یہ پیش رفت خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے اور امن عمل کے امکانات متاثر ہو سکتے ہیں۔