لاہور ( کامرس ڈیسک) سابق وفاقی وزیر تجارت گوہر اعجاز نے کہا ہے کہ حکومت نے بجٹ کی تیاری کے لیے بھرپور محنت کی ہے اور وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر خزانہ نے معیشت کو متحرک کرنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے لیے حکومت کے اقدامات مثبت ہیں، جو معاشی سرگرمیوں میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔گوہر اعجاز نے کہا کہ پاکستان سفارتی محاذ پر دنیا میں اپنی پہچان مضبوط کر چکا ہے، تاہم حقیقی معاشی خوشحالی کا دارومدار برآمدات میں اضافے پر ہے۔انہوں نے کہا کہ چار فیصد معاشی شرح نمو کا ہدف حاصل کرنے کے لیے غیر معمولی محنت درکار ہوگی اور حکومت ابھی اس ہدف کے حوالے سے مکمل طور پر پراعتماد نظر نہیں آتی۔سابق وزیر تجارت نے شرح سود کو معیشت کا بڑا مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کے کئی ممالک نے جنگی حالات میں بھی شرح سود میں اضافہ نہیں کیا، جبکہ پاکستان کو شرح سود کم کر کے پانچ فیصد تک لانے کی ضرورت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ملک کو سود کی مد میں بھاری ادائیگیوں کا سامنا ہے اور قومی معیشت کا بڑا مسئلہ یہی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ زیادہ شرح سود کے ذریعے مہنگائی کو مؤثر انداز میں کیسے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔گوہر اعجاز نے مزید کہا کہ حکومت کے ٹیکس ریونیو کا بڑا حصہ سود کی ادائیگیوں میں چلا جاتا ہے، اس لیے اقتصادی پالیسیوں پر نظرثانی کر کے انہیں زیادہ مؤثر بنانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے زور دیا کہ پائیدار معاشی استحکام اور ترقی کے لیے برآمدات میں اضافہ، سرمایہ کاری کا فروغ اور کاروباری ماحول کی بہتری ناگزیر ہے۔
گوہر اعجاز کا معاشی پالیسیوں پر اظہارِ خیال، شرح سود میں کمی اور برآمدات بڑھانے پر زور
واپس خبروں پر
Category:
کامرس