تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

حکومت کا ڈیووس میں آئی ایم ایف سے 2 ہزار ارب کے ریلیف پیکیج لینے کیلئے بات چیت کا فیصلہ

حکومت کا ڈیووس میں آئی ایم ایف سے 2 ہزار ارب کے ریلیف پیکیج لینے کیلئے بات چیت کا فیصلہ

اسلام آباد(پاکستان خبر) وزیراعظم شہباز شریف صنعتی شعبے کی بحالی کے لیے ڈیڑھ سے دو ہزار ارب روپے کے ریلیف پیکیج پر غور کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں آئندہ ہفتے ڈیووس میں آئی ایم ایف کی مینیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا سے ملاقات کریں گے۔ یہ ملاقات منگل کو سوئٹزرلینڈ میں ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر ہوگی۔مئی 2023 میں پیرس میں ملاقات کے دوران شہباز شریف نے وعدہ کیا تھا کہ وہ معیشت کو دوبارہ پٹری پر لانے اور ڈیفالٹ سے بچانے کے لیے اقدامات کریں گے۔ تاہم ان اقدامات کے نتیجے میں ملک میں بے روزگاری اور غربت بلند ترین سطح تک پہنچ گئی، جسے اب ریورس کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔وزارت خزانہ، آئی ایم ایف اور وزیراعظم کے میڈیا آفس نے اس ملاقات پر کسی تبصرے سے گریز کیا ہے۔ ریلیف پیکج خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل، کاروباری برادری اور وزارت خزانہ کی مشاورت سے تیار کیا گیا ہے، جس میں 2013 کے بعد پیدا ہونے والی ٹیکس تحریفات کو ختم کرنا اور انکم ٹیکس کی شرحوں میں کمی شامل ہے۔ذرائع کے مطابق پیکج کی حتمی لاگت 1.5 ٹریلین روپے سے بڑھ کر 2 ٹریلین روپے تک پہنچ سکتی ہے، اور نجی شعبہ نے روایتی صنعتوں کی بحالی کے لیے 975 ارب روپے کے ٹیکس کم کرنے کی تجویز دی ہے۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور سیکرٹری خزانہ امداد اللہ بوسال بھی وزیراعظم کے ہمراہ ڈیووس جائیں گے۔