تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

حکومت کا بڑا فیصلہ: مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل کی قیمتیں بڑھا دیں، پیٹرول و ڈیزل پر لیوی برقرار

حکومت کا بڑا فیصلہ: مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل کی قیمتیں بڑھا دیں، پیٹرول و ڈیزل پر لیوی برقرار

اسلام آباد(کامرس ڈیسک)حکومت نے لیوی میں اضافے کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں 39 روپے 20 پیسے اور لائٹ ڈیزل کی قیمت میں 67 روپے 51 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا ہے، جبکہ پیٹرول اور ڈیزل پر پٹرولیم لیوی برقرار رکھی گئی ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق پیٹرول پر فی لیٹر 105 روپے 37 پیسے اور ڈیزل پر 55 روپے 24 پیسے فی لیٹر لیوی برقرار رکھی گئی ہے۔ لائٹ ڈیزل کی نئی قیمت 302 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے، جبکہ قبل ازیں یہ 235 روپے 1 پیسہ تھی۔وزارت توانائی کا کہنا ہے کہ حکومت پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں برقرار رکھ کر 23 ارب روپے کی سبسڈی ادا کرے گی، جو 14 مارچ سے 20 مارچ تک کے لیے ہوگی۔ اس سبسڈی کے تحت پٹرول پر فی لیٹر 49 روپے 63 پیسے اور ڈیزل پر 75 روپے 5 پیسے سبسڈی دی جائے گی۔یہ رقم آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو پرائس ڈیفرنشیل کلیمز کی مد میں اوگرا کے ذریعے ادا کی جائے گی۔ وزارت توانائی نے بتایا کہ کابینہ نے وزیراعظم کفایت شعاری فنڈ قائم کرنے کی منظوری دے دی ہے اور اقتصادی رابطہ کمیٹی نے 27 ارب 10 کروڑ روپے اس فنڈ میں منتقل کرنے کی منظوری دی ہے۔ پرائس ڈیفرینشل کی ادائیگی میں او ایم سیز سے موصول ہونے والے بلوں کی تصدیق اور آڈٹ کا عمل بھی شامل ہوگا۔