تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

گرین لینڈ تنازع، ٹرمپ کی ٹیرف دھمکی سے عالمی منڈیاں لرز اٹھیں

گرین لینڈ تنازع، ٹرمپ کی ٹیرف دھمکی سے عالمی منڈیاں لرز اٹھیں


وا شنگٹن( مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے گرین لینڈ سے متعلق سخت مؤقف اور یورپی ممالک پر اضافی ٹیرف عائد کرنے کی دھمکی کے بعد عالمی مالیاتی منڈیوں میں ایک بار پھر بے یقینی اور اتار چڑھاؤ کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اگر امریکا کو گرین لینڈ خریدنے کی اجازت نہ دی گئی تو یکم فروری سے آٹھ یورپی ممالک کی درآمدات پر 10 فیصد اضافی ٹیرف نافذ کر دیا جائے گا، جسے بعد ازاں یکم جون سے بڑھا کر 25 فیصد تک لے جایا جائے گا۔ ان ممالک میں ڈنمارک، ناروے، سویڈن، فرانس، جرمنی، نیدرلینڈز، فن لینڈ اور برطانیہ شامل ہیں۔معاشی ماہرین کے مطابق اس اعلان کے اثرات یورپی کرنسی پر دباؤ کی صورت میں سامنے آ سکتے ہیں، جبکہ عالمی منڈیوں میں شدید بے چینی دیکھنے میں آ سکتی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی کشیدگی ایک بار پھر بڑھنے کے آثار ظاہر ہو رہے ہیں۔دوسری جانب یورپی رہنماؤں نے امریکی صدر کی اس دھمکی پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات یورپ اور امریکا کے تعلقات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور ایک نئی تجارتی جنگ کا سبب بن سکتے ہیں۔