تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

خلیج میں جنگ کے اثرات، پاکستان میں روئی اور پھٹی کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ

خلیج میں جنگ کے اثرات، پاکستان میں روئی اور پھٹی کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ

اسلام آباد( کامر س ڈیسک)خلیج میں جاری جنگ کے باعث درآمدی سرگرمیوں کی معطلی کے بعد پاکستان میں روئی اور پھٹی کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافے کا رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔گزشتہ ہفتے مقامی کاٹن مارکیٹس میں فی من روئی کی قیمت ایک ہزار 500 روپے کے اضافے کے ساتھ کاٹن ایئر 2025-26 کی نئی بلند ترین سطح 19 ہزار 500 روپے تک پہنچ گئی، جبکہ فی 40 کلوگرام پھٹی کی قیمت ایک ہزار روپے کے اضافے کے ساتھ 9 ہزار 300 روپے کی سطح تک پہنچ گئی۔ ماہرین کے مطابق رواں ہفتے بھی قیمتوں میں مزید اضافے کے امکانات ہیں۔کاٹن سیکٹر کے اسٹیک ہولڈرز کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی طلب کے پیش نظر کاٹن ایئر 2026-27 کے دوران کپاس کی کاشت میں بھی اضافہ متوقع ہے۔چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے نجی ٹی وی سے گفتگو میں بتایا کہ خلیجی جنگ کے باعث روئی کی درآمدات معطل ہونے، بین الاقوامی مارکیٹس میں قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ، ملک بھر کے کاٹن زونز میں غیر متوقع درجہ حرارت کی کمی اور ہلکی بارشوں کی وجہ سے کپاس کی کاشت متاثر ہوئی، جس کے نتیجے میں گذشتہ دو ہفتوں سے مقامی مارکیٹ میں روئی اور پھٹی کی قیمتوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔