تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

لاہور کی تین بہنوں کا عالمی ایتھلیٹکس کوچنگ کورس مکمل کرنے کا اعزاز

لاہور کی تین بہنوں کا عالمی ایتھلیٹکس کوچنگ کورس مکمل کرنے کا اعزاز

لاہور( سپورٹس ڈیسک)کھیلوں کے پس منظر رکھنے والی لاہور کی تین سگی بہنوں نے ایک ساتھ ورلڈ ایتھلیٹکس کے سی ای سی ایس لیول ون کوچنگ کورس میں کامیابی حاصل کر کے نمایاں اعزاز اپنے نام کر لیا۔آمنہ شہزاد، عائشہ شہزاد اور فاطمہ شہزاد کا تعلق ایک معروف اسپورٹس فیملی سے ہے۔ ان کے دادا فیاض محمود قریشی قومی سطح کے ایتھلیٹ رہ چکے ہیں جبکہ ان کے والد شہزاد قریشی قومی سطح کے سوئمر رہے ہیں اور اس وقت کرکٹ کوچنگ سے وابستہ ہیں۔تینوں بہنیں بی ایس ہیلتھ اینڈ فزیکل ایجوکیشن کی طالبات ہیں۔ آمنہ شہزاد آٹھویں سمسٹر میں ہیں جبکہ عائشہ اور فاطمہ چھٹے سمسٹر کی طالبات ہیں۔حال ہی میں لاہور میں پاکستان ایتھلیٹکس فیڈریشن کے زیر اہتمام ورلڈ ایتھلیٹکس کا کوچز ایجوکیشن سرٹیفکیشن سسٹم لیول ون کورس منعقد کیا گیا، جس میں سینئر کوچز کے ساتھ یہ تینوں بہنیں بھی شریک ہوئیں اور اپنی کارکردگی سے سب کی توجہ کا مرکز بن گئیں۔تینوں بہنوں نے کامیابی کے ساتھ کورس مکمل کیا اور ورلڈ ایتھلیٹکس کا سرٹیفکیٹ حاصل کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ سینئر کوچز کے ساتھ یہ کورس مکمل کرنا ان کے لیے ایک بڑا اعزاز ہے اور وہ مزید لیولز مکمل کر کے کوچنگ کے شعبے میں آگے بڑھنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ان کی تعلیمی پس منظر نے کورس کے دوران انہیں کافی مدد فراہم کی اور عملی تربیت کے دوران انہیں کسی بڑی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔