تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

بنگلادیش میں 2024 کے انتخابات شروع، ملک میں تاریخی ووٹنگ

بنگلادیش میں 2024 کے انتخابات شروع، ملک میں تاریخی ووٹنگ

بنگلادیش( مانیٹرنگ ڈیسک)بنگلادیش میں 2024 کی عوامی تحریک کے بعد ہونے والے پہلے عام انتخابات کے لیے آج ملک بھر میں پولنگ شروع ہو گئی۔ یہ انتخابات ملک کی جمہوریت کے لیے اہم امتحان سمجھے جا رہے ہیں۔الیکشن کمیشن کے مطابق 12 کروڑ 70 لاکھ سے زائد ووٹرز حقِ رائے دہی استعمال کرنے کے اہل ہیں۔ ہزاروں پولنگ اسٹیشنز پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ ووٹنگ جمعرات بھر جاری رہے گی جبکہ نتائج جمعہ کو متوقع ہیں۔یہ انتخابات سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد ہو رہے ہیں، جو 2024 میں عوامی احتجاج کے بعد مستعفی ہو کر بھارت چلی گئی تھیں۔ ان کی جماعت کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی گئی۔بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے رہنما طارق رحمان آئندہ وزیر اعظم کے مضبوط امیدوار سمجھے جا رہے ہیں۔ وہ سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کے صاحبزادے ہیں اور 17 سالہ خود ساختہ جلاوطنی کے بعد وطن واپس آئے۔ انہوں نے جمہوری اداروں کی بحالی، قانون کی حکمرانی اور معیشت کی بہتری کا وعدہ کیا ہے۔دوسری جانب جماعتِ اسلامی کی قیادت میں 11 جماعتوں پر مشتمل اتحاد بھی میدان میں ہے، جو سیاسی تبدیلیوں کے بعد اثر و رسوخ بڑھا چکا ہے۔ بعض حلقوں، خاص طور پر خواتین اور اقلیتوں میں اس اتحاد کی ممکنہ کامیابی پر تشویش ہے۔