تازہ ترین
فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران پہنچ گئے، امن و سکیورٹی امور پر بات چیت ہوگی شہباز شریف سے مراد علی شاہ کی ملاقات، سیاسی رواداری و مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق بانی پی ٹی آئی کے بعد عام قیدی بھی نجی اسپتال سے علاج کیلئے عدالت پہنچ گئے آزاد کشمیر اسمبلی میں مسلم لیگ ن کی واضح برتری، ارکان کی تعداد 32 ہوگئی ایران پاکستان تعلقات بہترین مراحل میں ہیں: ایرانی ترجمان یورپی یونین کا اسرائیل سے ای ون آبادکاری منصوبہ روکنے کا مطالبہ اسرائیلی فوج نے 3 سال میں 30 سال جتنا گولہ بارود استعمال کرلیا ایران کا آبنائے ہرمز میں قوانین توڑنے والے جہازوں کو جرمانے، حراست اور ضبطی کا انتباہ پیٹرول پر 130، ڈیزل پر 122 روپے سے زائد ٹیکس و مارجنز عائد توانائی شعبے کا سرکلر ڈیٹ 5286 ارب روپے تک پہنچ گیا صدر زرداری کا کیٹی بندر کو اضافی بحری گیٹ وے بنانے کا حکم لاہور میں سبزیاں اور پھل مہنگے، قیمتوں میں 150 روپے کلو تک اضافہ انجری کے باعث نجیہہ علوی ایشیا کپ سے باہر، صدف شمس اسکواڈ میں شامل جیسوال اور اسیتھا فرنینڈو پر میچ فیس کا 25 فیصد جرمانہ 21 سابق کپتانوں کا عمران خان کے طبی معائنے اور علاج کا مطالبہ ایرلنگ ہالینڈ کا نیا ہیئر اسٹائل سوشل میڈیا پر وائرل
پاکستان خبر

آئی ایم ایف کی تجویز: جی ایس ٹی 18 سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے کا امکان

آئی ایم ایف کی تجویز: جی ایس ٹی 18 سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے کا امکان

 اسلام آباد( کامرس ڈیسک) عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کو تجویز دی ہے کہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کی معیاری شرح 18 فیصد سے بڑھا کر 19 فیصد کی جائے۔ذرائع کے مطابق حکومت پاکستان نے اس تجویز کی مخالفت کی ہے، مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اس اقدام سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا اور عوامی سطح پر مالی دباؤ بڑھے گا۔ جی ایس ٹی میں اضافے سے سولر پینلز، الیکٹرک گاڑیاں اور دیگر اشیاء مہنگی ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔اطلاعات کے مطابق آئندہ بجٹ میں الیکٹرک گاڑیوں اور ہائبرڈ گاڑیوں پر ٹیکس میں بڑے اضافے کی تجاویز بھی زیر غور ہیں۔ ہائبرڈ گاڑیوں پر موجودہ رعایتی شرح ختم کر کے 18 فیصد تک کرنے اور الیکٹرک گاڑیوں پر بھی اسی شرح کے نفاذ کی تجویز دی گئی ہے۔اسی طرح سولر پینلز پر جی ایس ٹی 10 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جس سے قابل تجدید توانائی کے شعبے پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔وزارت صنعت و پیداوار کے حکام کے مطابق یہ تمام تجاویز زیر غور ہیں تاہم ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ذرائع کے مطابق اگر ایک فیصد جی ایس ٹی اضافہ منظور ہو جاتا ہے تو اس سے سالانہ 250 سے 300 ارب روپے تک اضافی آمدن حاصل ہو سکتی ہے۔آئی ایم ایف کا مؤقف ہے کہ موجودہ مالی صورتحال اور ٹیکس وصولیوں میں کمی کے باعث محصولات بڑھانے کے لیے یہ اقدامات ضروری ہو سکتے ہیں، جبکہ پاکستانی حکام متبادل حل تلاش کرنے پر زور دے رہے ہیں۔