تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

آئی ایم ایف کی تجویز: جی ایس ٹی 18 سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے کا امکان

آئی ایم ایف کی تجویز: جی ایس ٹی 18 سے بڑھا کر 19 فیصد کرنے کا امکان

 اسلام آباد( کامرس ڈیسک) عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کو تجویز دی ہے کہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کی معیاری شرح 18 فیصد سے بڑھا کر 19 فیصد کی جائے۔ذرائع کے مطابق حکومت پاکستان نے اس تجویز کی مخالفت کی ہے، مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اس اقدام سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا اور عوامی سطح پر مالی دباؤ بڑھے گا۔ جی ایس ٹی میں اضافے سے سولر پینلز، الیکٹرک گاڑیاں اور دیگر اشیاء مہنگی ہونے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔اطلاعات کے مطابق آئندہ بجٹ میں الیکٹرک گاڑیوں اور ہائبرڈ گاڑیوں پر ٹیکس میں بڑے اضافے کی تجاویز بھی زیر غور ہیں۔ ہائبرڈ گاڑیوں پر موجودہ رعایتی شرح ختم کر کے 18 فیصد تک کرنے اور الیکٹرک گاڑیوں پر بھی اسی شرح کے نفاذ کی تجویز دی گئی ہے۔اسی طرح سولر پینلز پر جی ایس ٹی 10 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جس سے قابل تجدید توانائی کے شعبے پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔وزارت صنعت و پیداوار کے حکام کے مطابق یہ تمام تجاویز زیر غور ہیں تاہم ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ذرائع کے مطابق اگر ایک فیصد جی ایس ٹی اضافہ منظور ہو جاتا ہے تو اس سے سالانہ 250 سے 300 ارب روپے تک اضافی آمدن حاصل ہو سکتی ہے۔آئی ایم ایف کا مؤقف ہے کہ موجودہ مالی صورتحال اور ٹیکس وصولیوں میں کمی کے باعث محصولات بڑھانے کے لیے یہ اقدامات ضروری ہو سکتے ہیں، جبکہ پاکستانی حکام متبادل حل تلاش کرنے پر زور دے رہے ہیں۔