تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

عمران خان جیل میں سہولیات سے مطمئن، آنکھوں کے ماہر تک رسائی مل گئی

عمران خان جیل میں سہولیات سے مطمئن، آنکھوں کے ماہر تک رسائی مل گئی

اسلام آباد(پاکستان خبر)سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی فرینڈ آف دی کورٹ رپورٹ میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے جیل میں حالات سامنے آ گئے۔ رپورٹ کے مطابق عمران خان سیل میں فراہم کردہ خوراک، ہوا، روشنی اور صفائی پر اطمینان رکھتے ہیں۔سردی میں ہیٹر، بلور اور گرم پانی جبکہ گرمی میں کولر فراہم کیا جاتا ہے۔ سیل میں تقریباً 10 کیمرے ہیں، لیکن کمرے کے اندر کوئی کیمرہ موجود نہیں۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ یہ ان کی حفاظت کے لیے ہیں۔خوراک میں ہفتے کے دو دن چکن، دو دن گوشت اور دو دن دال یا سینڈوچ شامل ہیں، پانی بوتل بند فراہم کیا جاتا ہے اور ناشتے میں دلیہ، کافی اور کھجوریں شامل ہیں۔روزمرہ معمول میں صبح ناشتہ، ایک گھنٹہ قرآن کی تلاوت اور جسمانی ورزش شامل ہے۔ انہیں 100 کتابیں اور 32 انچ کا ٹی وی بھی دستیاب ہے۔صحت کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا کہ عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی متاثر ہے اور بلڈ کلاٹ کا خطرہ موجود ہے۔ عدالت نے آنکھوں کے ماہر ڈاکٹر سے معائنے کی اجازت دی، لیکن فیملی ممبر کے ساتھ معائنہ مسترد کیا گیا۔چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ تمام طبی سہولیات ریاست کی ذمہ داری کے تحت فراہم کی جائیں اور ملاقات و رابطے کی سہولت بھی دی جائے، جو 16 فروری سے قبل مکمل ہونی چاہیے۔