تازہ ترین
پاکستان کی آبی سلامتی، عالمی فورمز سے رجوع کی درخواست مقرر راولپنڈی میں 6 ماہ کیلئے پاک فوج تعینات کرنے کی منظوری وزیراعظم کی سیلاب متاثرین کے خاندانوں اور تباہ شدہ گھروں کیلئے مالی امداد کی ہدایت عمران خان کی اسپتال منتقلی: عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست بنگلادیش کا پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی فریم ورک میں شمولیت پر مثبت عندیہ راجستھان میں کاکروچ جنتا پارٹی کارکنوں پر حملے کا الزام، بی جے پی سے وابستگی کا دعویٰ افغانستان میں طالبان مخالف مسلح مزاحمت میں تیزی، بدخشاں میں حملے عالمی میڈیا نے بھارتی دہشتگردی کے چہرے کو بے نقاب کردیا پاکستان میں ورچوئل اثاثہ جات کیلئے لائسنسنگ نظام متعارف آئی ایم ایف شرط پر اربوں ڈالر کی درآمدی بے ضابطگیاں دور، ڈیٹا اپ ڈیٹ درآمدی چینی میں سے ایک لاکھ 8 ہزار ٹن برآمد کرنے کا فیصلہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی، 100 انڈیکس 2938 پوائنٹس گر گیا ورلڈ کپ فائنل جھگڑا، فیفا نے ارجنٹینا اور اسپین کے کھلاڑیوں پر پابندیاں لگا دیں ورلڈ تائیکوانڈو کپ: ایران مجموعی طور پر فاتح، پومزے میں پاکستان کی حکمرانی مچل اسٹارک کی تباہ کن بولنگ، بنگلا دیش 64 رنز پر ڈھیر لیڈز ٹیسٹ میں شکست، سلمان علی آغا نے ٹیم کی خامیوں کی نشاندہی کردی
پاکستان خبر

عمران خان جیل میں سہولیات سے مطمئن، آنکھوں کے ماہر تک رسائی مل گئی

عمران خان جیل میں سہولیات سے مطمئن، آنکھوں کے ماہر تک رسائی مل گئی

اسلام آباد(پاکستان خبر)سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی فرینڈ آف دی کورٹ رپورٹ میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کے جیل میں حالات سامنے آ گئے۔ رپورٹ کے مطابق عمران خان سیل میں فراہم کردہ خوراک، ہوا، روشنی اور صفائی پر اطمینان رکھتے ہیں۔سردی میں ہیٹر، بلور اور گرم پانی جبکہ گرمی میں کولر فراہم کیا جاتا ہے۔ سیل میں تقریباً 10 کیمرے ہیں، لیکن کمرے کے اندر کوئی کیمرہ موجود نہیں۔ عمران خان کا کہنا ہے کہ یہ ان کی حفاظت کے لیے ہیں۔خوراک میں ہفتے کے دو دن چکن، دو دن گوشت اور دو دن دال یا سینڈوچ شامل ہیں، پانی بوتل بند فراہم کیا جاتا ہے اور ناشتے میں دلیہ، کافی اور کھجوریں شامل ہیں۔روزمرہ معمول میں صبح ناشتہ، ایک گھنٹہ قرآن کی تلاوت اور جسمانی ورزش شامل ہے۔ انہیں 100 کتابیں اور 32 انچ کا ٹی وی بھی دستیاب ہے۔صحت کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا کہ عمران خان کی دائیں آنکھ کی بینائی متاثر ہے اور بلڈ کلاٹ کا خطرہ موجود ہے۔ عدالت نے آنکھوں کے ماہر ڈاکٹر سے معائنے کی اجازت دی، لیکن فیملی ممبر کے ساتھ معائنہ مسترد کیا گیا۔چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ تمام طبی سہولیات ریاست کی ذمہ داری کے تحت فراہم کی جائیں اور ملاقات و رابطے کی سہولت بھی دی جائے، جو 16 فروری سے قبل مکمل ہونی چاہیے۔