تازہ ترین
ٹائمز اسکوائر میں چاقو حملہ، بینک آف امریکا کی نائب صدر ہلاک شام کی خفیہ جوہری سرگرمیوں سے متعلق تمام سوالات حل: آئی اے ای اے طالبان حکومت پانچ سال بعد بھی جامع نظام دینے میں ناکام: اعلامیہ ایران کا عرب ممالک سے امریکی افواج نکالنے کا مطالبہ پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، ہنڈرڈ انڈیکس 1700 پوائنٹس گرگیا اگست میں مہنگائی 11.2 فیصد، ایک ماہ بعد پھر ڈبل ڈیجٹ میں داخل کاروباری اوقات میں 30 منٹ اضافے کی سفارش، بجلی مہنگی ہونے کا خدشہ امریکا ایران کشیدگی، عالمی منڈی میں تیل مزید مہنگا مصباح الحق کا پی سی بی سے اختلافات پر استعفیٰ، بحران شدت اختیار کرگیا قومی ہاکی چیمپئن شپ کی انعامی رقم میں 10 گنا اضافہ پاکستان کرکٹ کی ساکھ میدان میں کامیابی سے بحال ہوگی:محمد یوسف لارڈز ٹیسٹ شکست، پی سی بی کے مزید سخت فیصلوں کا امکان مالینی شرما کی شوبز سے دور نئی زندگی نے مداحوں کو حیران کردیا فریال گوہر کا 9 سالہ ازدواجی زندگی میں تشدد پر انکشاف مشی خان نے فریال گوہر کو سابق شوہر کے دعووں پر تنقید کا نشانہ بنا دیا ٹوٹا ہوا اسکرین پروٹیکٹر استعمال کرنا کتنا محفوظ ہے؟
پاکستان خبر

روسی تیل پر انحصار بھارت کے لیے مہنگا ثابت ہونے لگا، امریکی ٹیرف میں بڑے اضافے کا امکان

روسی تیل پر انحصار بھارت کے لیے مہنگا ثابت ہونے لگا، امریکی ٹیرف میں بڑے اضافے کا امکان

نئی دہلی( مانیٹرنگ ڈیسک) روس سے سستے تیل کی درآمد پر بھارت کے بڑھتے انحصار نے اب سفارتی اور تجارتی محاذ پر نئی مشکلات کو جنم دینا شروع کر دیا ہے۔ عالمی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق امریکا کی جانب سے بھارتی مصنوعات پر بھاری ٹیرف میں اضافے کے امکانات پر سنجیدہ غور کیا جا رہا ہے، جس سے بھارتی معیشت کو مزید دبا کا سامنا ہو سکتا ہے۔بھارتی جریدے *انڈیا ٹوڈے* کے مطابق گزشتہ برس امریکا نے بعض بھارتی درآمدات پر 25 فیصد اضافی ٹیرف نافذ کیا تھا، جبکہ روسی تیل کی خریداری پر مزید 25 فیصد جرمانہ عائد کیے جانے کے باعث کچھ مصنوعات پر مجموعی ڈیوٹی 50 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔رپورٹس کے مطابق دسمبر 2025 میں بھی امریکی حکام کی جانب سے بھارتی چاول سمیت بعض دیگر زرعی مصنوعات پر نئے ٹیرف عائد کرنے کے امکان کا اظہار کیا گیا تھا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی بات چیت میں تعطل پیدا ہوا۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے تجارتی ٹیرف اور عالمی پابندیوں کے خدشات نے بھارت کے معاشی ماڈل کے لیے نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ماہرین کے مطابق عالمی مارکیٹ میں توانائی کے سستے ذرائع کی تلاش نے اگرچہ بھارت کو قلیل مدت میں فائدہ دیا، تاہم طویل مدت میں یہ حکمت عملی سفارتی سطح پر چیلنجز کا باعث بن سکتی ہے۔ملکی سطح پر بھی معاشی عدم توازن پر بحث تیز ہو رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق بھارت میں بڑے کاروباری گروپس کی دولت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ مہنگائی اور روزمرہ اخراجات میں اضافے کے باعث عام شہریوں کو معاشی دبا کا سامنا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں بھارت کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی تجارتی اور توانائی پالیسیوں میں توازن پیدا کرے تاکہ عالمی منڈی میں اپنے تجارتی مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔