تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

روسی تیل پر انحصار بھارت کے لیے مہنگا ثابت ہونے لگا، امریکی ٹیرف میں بڑے اضافے کا امکان

روسی تیل پر انحصار بھارت کے لیے مہنگا ثابت ہونے لگا، امریکی ٹیرف میں بڑے اضافے کا امکان

نئی دہلی( مانیٹرنگ ڈیسک) روس سے سستے تیل کی درآمد پر بھارت کے بڑھتے انحصار نے اب سفارتی اور تجارتی محاذ پر نئی مشکلات کو جنم دینا شروع کر دیا ہے۔ عالمی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق امریکا کی جانب سے بھارتی مصنوعات پر بھاری ٹیرف میں اضافے کے امکانات پر سنجیدہ غور کیا جا رہا ہے، جس سے بھارتی معیشت کو مزید دبا کا سامنا ہو سکتا ہے۔بھارتی جریدے *انڈیا ٹوڈے* کے مطابق گزشتہ برس امریکا نے بعض بھارتی درآمدات پر 25 فیصد اضافی ٹیرف نافذ کیا تھا، جبکہ روسی تیل کی خریداری پر مزید 25 فیصد جرمانہ عائد کیے جانے کے باعث کچھ مصنوعات پر مجموعی ڈیوٹی 50 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔رپورٹس کے مطابق دسمبر 2025 میں بھی امریکی حکام کی جانب سے بھارتی چاول سمیت بعض دیگر زرعی مصنوعات پر نئے ٹیرف عائد کرنے کے امکان کا اظہار کیا گیا تھا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی بات چیت میں تعطل پیدا ہوا۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے تجارتی ٹیرف اور عالمی پابندیوں کے خدشات نے بھارت کے معاشی ماڈل کے لیے نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ماہرین کے مطابق عالمی مارکیٹ میں توانائی کے سستے ذرائع کی تلاش نے اگرچہ بھارت کو قلیل مدت میں فائدہ دیا، تاہم طویل مدت میں یہ حکمت عملی سفارتی سطح پر چیلنجز کا باعث بن سکتی ہے۔ملکی سطح پر بھی معاشی عدم توازن پر بحث تیز ہو رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق بھارت میں بڑے کاروباری گروپس کی دولت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ مہنگائی اور روزمرہ اخراجات میں اضافے کے باعث عام شہریوں کو معاشی دبا کا سامنا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں بھارت کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی تجارتی اور توانائی پالیسیوں میں توازن پیدا کرے تاکہ عالمی منڈی میں اپنے تجارتی مفادات کا تحفظ کیا جا سکے۔