تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

غزہ بورڈ کے لیے ایک ارب ڈالر نہیں دیںگے:انڈونیشیا کا واضح موقف

غزہ بورڈ کے لیے ایک ارب ڈالر نہیں دیںگے:انڈونیشیا کا واضح موقف

جکارتہ( مانیٹرنگ ڈیسک) انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو نے واضح کیا ہے کہ ان کا ملک غزہ پیس بورڈ کی رکنیت کے لیے ایک ارب ڈالر فیس ادا نہیں کرے گا۔ صدر نے گردش کرنے والی خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ انڈونیشیا نے کبھی بھی اتنی بڑی مالی معاونت کا وعدہ نہیں کیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق صدر کا کہنا تھا کہ انڈونیشیا صرف غزہ میں قیامِ امن کے لیے امن فوج فراہم کرنے کا عزم رکھتا ہے اور ان کا کردار محدود اور واضح ہے۔ انڈونیشیا بھاری مالی ذمہ داری نہیں اٹھائے گا بلکہ پیس کیپنگ مشنز میں حصہ لینے کے لیے تیار ہے۔صدر نے مزید کہا کہ انڈونیشین فوج غزہ میں صرف امن قائم رکھنے کے لیے خدمات انجام دے سکتی ہے اور ضرورت پڑنے پر مطلوبہ تعداد میں اہلکار فراہم کیے جا سکتے ہیں۔رپورٹس کے مطابق صدر کی وضاحت عوامی خدشات دور کرنے کے لیے تھی، کیونکہ ایک ارب ڈالر کی ممکنہ ادائیگی کے قومی بجٹ پر اثرات کے حوالے سے تشویش پائی جا رہی تھی۔ قبل ازیں 3 فروری کو وزیر خزانہ نے عندیہ دیا تھا کہ یہ رقم وزارت دفاع کے بجٹ سے فراہم کی جا سکتی ہے۔یاد رہے کہ صدر پرابوو سوبیانتو نے واشنگٹن میں غزہ بورڈ کے افتتاحی اجلاس میں شرکت کی تھی، جہاں غزہ کی تعمیر نو، ہنگامی امداد اور سکیورٹی استحکام کے لیے ابتدائی طور پر 17 ارب ڈالر کے وعدے کیے گئے تھے۔ ان میں امریکا نے 10 ارب ڈالر جبکہ یو اے ای، سعودی عرب اور قطر سمیت دیگر 9 ممالک نے مجموعی طور پر 7 ارب ڈالر دینے کا اعلان کیا تھا۔دوسری جانب، انڈونیشین میڈیا کے مطابق غزہ بورڈ میں شمولیت پر صدر کو ملک کے اندر سخت تنقید کا بھی سامنا ہے۔