تازہ ترین
نئے صوبوں کی بحث ڈرامہ ہے، ملیحہ لودھی پی ٹی آئی آزاد عدلیہ، الیکشن کمیشن کیلئے مارچ کررہی ہے: بیرسٹر گوہر کرم میں آپریشن، افغان خارجی سمیت 4 دہشتگرد ہلاک قائداعظم کی میراث، پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا ہے: شہباز شریف 11 9/ کی 25ویں برسی، نیو یارک میں خصوصی ڈرون لائٹ شو کا اہتمام برطانیہ میں پروازوں کا بحران، 12 ہزار سے زائد متاثر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کی حوثیوں پر کارروائی کی درخواست رد کردی منگولیا کے صدر نے 100 کلو وزن 20 بار اٹھا لیا پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کی لائسنسنگ کا عمل شروع پاکستان، آئی ایم ایف مذاکرات 23 ستمبر سے شروع ہونے کا امکان 4 روز میں پیٹرول تقریباً 25 روپے فی لیٹر مہنگا ہوا: رپورٹ پیٹرول 3 روپے 5 پیسے، ڈیزل 5 روپے 37 پیسے مہنگا تاپسی پنوں نے پاپارازی سے رویے کی وجہ بتادی غزہ پر فلم ’نازا‘ کو وینس فیسٹیول میں 25 منٹ داد سیف علی خان نے فلم ’کاک ٹیل‘ میں کام کو غلطی قرار دے دیا رتیش دیش مکھ کو پاپارازی نے 100 روپے دے کر بچالیا
پاکستان خبر

غزہ بورڈ کے لیے ایک ارب ڈالر نہیں دیںگے:انڈونیشیا کا واضح موقف

غزہ بورڈ کے لیے ایک ارب ڈالر نہیں دیںگے:انڈونیشیا کا واضح موقف

جکارتہ( مانیٹرنگ ڈیسک) انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو نے واضح کیا ہے کہ ان کا ملک غزہ پیس بورڈ کی رکنیت کے لیے ایک ارب ڈالر فیس ادا نہیں کرے گا۔ صدر نے گردش کرنے والی خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ انڈونیشیا نے کبھی بھی اتنی بڑی مالی معاونت کا وعدہ نہیں کیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق صدر کا کہنا تھا کہ انڈونیشیا صرف غزہ میں قیامِ امن کے لیے امن فوج فراہم کرنے کا عزم رکھتا ہے اور ان کا کردار محدود اور واضح ہے۔ انڈونیشیا بھاری مالی ذمہ داری نہیں اٹھائے گا بلکہ پیس کیپنگ مشنز میں حصہ لینے کے لیے تیار ہے۔صدر نے مزید کہا کہ انڈونیشین فوج غزہ میں صرف امن قائم رکھنے کے لیے خدمات انجام دے سکتی ہے اور ضرورت پڑنے پر مطلوبہ تعداد میں اہلکار فراہم کیے جا سکتے ہیں۔رپورٹس کے مطابق صدر کی وضاحت عوامی خدشات دور کرنے کے لیے تھی، کیونکہ ایک ارب ڈالر کی ممکنہ ادائیگی کے قومی بجٹ پر اثرات کے حوالے سے تشویش پائی جا رہی تھی۔ قبل ازیں 3 فروری کو وزیر خزانہ نے عندیہ دیا تھا کہ یہ رقم وزارت دفاع کے بجٹ سے فراہم کی جا سکتی ہے۔یاد رہے کہ صدر پرابوو سوبیانتو نے واشنگٹن میں غزہ بورڈ کے افتتاحی اجلاس میں شرکت کی تھی، جہاں غزہ کی تعمیر نو، ہنگامی امداد اور سکیورٹی استحکام کے لیے ابتدائی طور پر 17 ارب ڈالر کے وعدے کیے گئے تھے۔ ان میں امریکا نے 10 ارب ڈالر جبکہ یو اے ای، سعودی عرب اور قطر سمیت دیگر 9 ممالک نے مجموعی طور پر 7 ارب ڈالر دینے کا اعلان کیا تھا۔دوسری جانب، انڈونیشین میڈیا کے مطابق غزہ بورڈ میں شمولیت پر صدر کو ملک کے اندر سخت تنقید کا بھی سامنا ہے۔