تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

افغان سرحد سے دراندازی، تاجک فورسز کی کارروائی میں چار ہلاک

افغان سرحد سے دراندازی، تاجک فورسز کی کارروائی میں چار ہلاک

 تاجکستان ( مانیٹرنگ ڈیسک)وسطی ایشیائی ملک تاجکستان نے دعویٰ کیا ہے کہ افغانستان سے سرحد عبور کرنے والے چار مشتبہ دہشت گردوں کو سیکیورٹی فورسز نے کارروائی کے دوران ہلاک کر دیا ہے، جس کے بعد سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔تاجک حکام کے مطابق یہ کارروائی جنوبی صوبے ختلون میں اس وقت کی گئی جب مسلح افراد نے گھیرے میں آنے کے باوجود ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا۔ سرکاری خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ اتوار کے روز ہونے والی اس کارروائی میں سیکیورٹی فورسز نے ان افراد کو غیر مؤثر بنا دیا۔تاجکستان اور افغانستان کے درمیان طویل اور دشوار گزار پہاڑی سرحد واقع ہے، جہاں حالیہ مہینوں کے دوران پرتشدد واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ حکام کے مطابق نومبر کے بعد سے اب تک سرحدی علاقوں میں کم از کم پانچ مہلک واقعات پیش آ چکے ہیں۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ان جھڑپوں میں مجموعی طور پر 16 افراد ہلاک ہوئے ہیں، جن میں تاجک سرحدی اہلکار، چینی شہری اور وہ افراد شامل ہیں جنہیں حکام اسمگلر یا دہشت گرد قرار دیتے ہیں۔نومبر میں چینی شہریوں پر حملوں کے بعد تاجک حکومت نے افغان طالبان حکام سے مطالبہ کیا تھا کہ سرحدی علاقوں میں عدم استحکام روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ تاجکستان کا مؤقف ہے کہ خطے میں منشیات اسمگلروں اور مسلح گروہوں کی سرگرمیاں مسلسل سیکیورٹی خطرہ بنی ہوئی ہیں۔واضح رہے کہ دسمبر میں بھی تاجک-افغان سرحد پر مسلح جھڑپ کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں تین مشتبہ دہشت گرد اور دو تاجک سرحدی اہلکار شامل تھے۔ تاجک حکومت نے افغانستان میں داعش خراسان سے منسلک عناصر کی موجودگی پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔