تازہ ترین
پاکستان کی آبی سلامتی، عالمی فورمز سے رجوع کی درخواست مقرر راولپنڈی میں 6 ماہ کیلئے پاک فوج تعینات کرنے کی منظوری وزیراعظم کی سیلاب متاثرین کے خاندانوں اور تباہ شدہ گھروں کیلئے مالی امداد کی ہدایت عمران خان کی اسپتال منتقلی: عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست بنگلادیش کا پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی فریم ورک میں شمولیت پر مثبت عندیہ راجستھان میں کاکروچ جنتا پارٹی کارکنوں پر حملے کا الزام، بی جے پی سے وابستگی کا دعویٰ افغانستان میں طالبان مخالف مسلح مزاحمت میں تیزی، بدخشاں میں حملے عالمی میڈیا نے بھارتی دہشتگردی کے چہرے کو بے نقاب کردیا پاکستان میں ورچوئل اثاثہ جات کیلئے لائسنسنگ نظام متعارف آئی ایم ایف شرط پر اربوں ڈالر کی درآمدی بے ضابطگیاں دور، ڈیٹا اپ ڈیٹ درآمدی چینی میں سے ایک لاکھ 8 ہزار ٹن برآمد کرنے کا فیصلہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی، 100 انڈیکس 2938 پوائنٹس گر گیا ورلڈ کپ فائنل جھگڑا، فیفا نے ارجنٹینا اور اسپین کے کھلاڑیوں پر پابندیاں لگا دیں ورلڈ تائیکوانڈو کپ: ایران مجموعی طور پر فاتح، پومزے میں پاکستان کی حکمرانی مچل اسٹارک کی تباہ کن بولنگ، بنگلا دیش 64 رنز پر ڈھیر لیڈز ٹیسٹ میں شکست، سلمان علی آغا نے ٹیم کی خامیوں کی نشاندہی کردی
پاکستان خبر

افغان سرحد سے دراندازی، تاجک فورسز کی کارروائی میں چار ہلاک

افغان سرحد سے دراندازی، تاجک فورسز کی کارروائی میں چار ہلاک

 تاجکستان ( مانیٹرنگ ڈیسک)وسطی ایشیائی ملک تاجکستان نے دعویٰ کیا ہے کہ افغانستان سے سرحد عبور کرنے والے چار مشتبہ دہشت گردوں کو سیکیورٹی فورسز نے کارروائی کے دوران ہلاک کر دیا ہے، جس کے بعد سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔تاجک حکام کے مطابق یہ کارروائی جنوبی صوبے ختلون میں اس وقت کی گئی جب مسلح افراد نے گھیرے میں آنے کے باوجود ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا۔ سرکاری خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ اتوار کے روز ہونے والی اس کارروائی میں سیکیورٹی فورسز نے ان افراد کو غیر مؤثر بنا دیا۔تاجکستان اور افغانستان کے درمیان طویل اور دشوار گزار پہاڑی سرحد واقع ہے، جہاں حالیہ مہینوں کے دوران پرتشدد واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ حکام کے مطابق نومبر کے بعد سے اب تک سرحدی علاقوں میں کم از کم پانچ مہلک واقعات پیش آ چکے ہیں۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ان جھڑپوں میں مجموعی طور پر 16 افراد ہلاک ہوئے ہیں، جن میں تاجک سرحدی اہلکار، چینی شہری اور وہ افراد شامل ہیں جنہیں حکام اسمگلر یا دہشت گرد قرار دیتے ہیں۔نومبر میں چینی شہریوں پر حملوں کے بعد تاجک حکومت نے افغان طالبان حکام سے مطالبہ کیا تھا کہ سرحدی علاقوں میں عدم استحکام روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ تاجکستان کا مؤقف ہے کہ خطے میں منشیات اسمگلروں اور مسلح گروہوں کی سرگرمیاں مسلسل سیکیورٹی خطرہ بنی ہوئی ہیں۔واضح رہے کہ دسمبر میں بھی تاجک-افغان سرحد پر مسلح جھڑپ کے نتیجے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں تین مشتبہ دہشت گرد اور دو تاجک سرحدی اہلکار شامل تھے۔ تاجک حکومت نے افغانستان میں داعش خراسان سے منسلک عناصر کی موجودگی پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔