تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

ایران میں مظاہروں کے بعد کال سروس بحال، انٹرنیٹ بند

ایران میں مظاہروں کے بعد کال سروس بحال، انٹرنیٹ بند

تہران( مانیٹرنگ ڈیسک) ایران میں پُرتشدد مظاہروں کا سلسلہ رک جانے کے بعد ملک میں انٹرنیشنل کالز سروس دوبارہ بحال کر دی گئی ہے، تاہم انٹرنیٹ سروس اب بھی بند ہے۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق امریکی انسانی حقوق تنظیم نے دعویٰ کیا ہے کہ احتجاجی مظاہروں کے دوران اب تک 1,850 مظاہرین ہلاک ہو چکے ہیں۔ یو این ہیومن رائٹس کے ترجمان نے بھی کہا کہ پرتشدد واقعات میں مرنے والوں کی تعداد ہزاروں میں ہے اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ان واقعات کو جلد از جلد روکے۔ 2022ء کے بعد یہ ایران میں سب سے بڑے مظاہروں میں سے ایک ہیں۔ایرانی انٹیلی جنس حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے متعدد گھروں سے امریکی ساختہ دھماکہ خیز مواد اور اسلحہ برآمد کر لیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ان کے پاس بیرونِ ملک سے دہشت گرد ایجنٹوں کو احکامات دینے کے شواہد موجود ہیں اور ان کا خیال ہے کہ امریکا منصفانہ مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہے۔