تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

ایران نے امریکا و اسرائیل کے خلاف ’آپریشن وعدہ صادق 4‘ کی 78 ویں لہر شروع کر دی

ایران نے امریکا و اسرائیل کے خلاف ’آپریشن وعدہ صادق 4‘ کی 78 ویں لہر شروع کر دی

تہران( مانیٹرنگ ڈیسک) ایران نے امریکا اور اسرائیل کے خلاف میزائل حملوں کی 78 ویں لہر کا اعلان کر دیا ہے، جس کے تحت خطے میں مختلف اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق یہ کارروائیاں ’آپریشن وعدہ صادق 4‘ کے تحت کی جا رہی ہیں، اور اس نئی لہر کے دوران اسرائیل کے مختلف علاقوں سمیت خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔پاسدارانِ انقلاب نے بتایا کہ ایلات، دیمونا اور شمالی تل ابیب سمیت کئی اہم مقامات پر ملٹی وارہیڈ میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے حملے کیے گئے۔ ان کارروائیوں میں استعمال ہونے والے میزائلوں میں عماد اور قدر شامل ہیں، جو طویل فاصلے تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ایرانی حکام نے مزید کہا کہ اب تک تمام جنگی یونٹس اور بسیج فورسز کو مکمل طور پر میدان میں نہیں اتارا گیا، تاہم ضرورت پڑنے پر ان قوتوں کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے، جس سے صورتحال مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔دوسری جانب ایرانی فوج نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بھی ایک سخت پیغام بھیجا، جس میں کہا گیا کہ ٹرمپ سوشل میڈیا اور بیانات سے توجہ ہٹا کر آسمان، اسٹاک مارکیٹ اور تیل کی قیمتوں پر نظر رکھیں، کیونکہ ایران جلد ایک بڑا ’سرپرائز‘ دینے والا ہے جس کے اہم نتائج سامنے آئیں گے۔ماہرین کے مطابق ایران کے مسلسل حملے اور سخت بیانات خطے میں کشیدگی میں اضافہ کر رہے ہیں، جس کے عالمی سطح پر سکیورٹی اور معیشت پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔