تازہ ترین
جسٹس منیب اختر نے قائم مقام چیف جسٹس آف پاکستان کا حلف اٹھا لیا حج 2027ء کے لیے آن لائن رجسٹریشن کا آغاز، ابتدائی مرحلے میں پاسپورٹ لازمی نہیں گلگت بلتستان اسمبلی: 30 نو منتخب ارکان نے حلف اٹھا لیا بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی کوششیں کمزور پڑ گئی ہیں: علی امین گنڈاپور ٹرمپ کی نیٹو اتحادیوں پر تنقید، ایران معاملے پر اٹلی کو بھی ہدف یوکرین جانے والے ترک مال بردار جہاز پر روسی ڈرون حملہ، مصری شہری ہلاک اسماعیل قانی کی اسرائیل کو جنوبی لبنان سے فوری انخلا کی وارننگ ٹیکسٹائل برآمدات میں اضافہ، معیشت کے استحکام کی جانب اہم پیش رفت نیویارک میں کنسرٹ کے دوران افسوسناک حادثہ، ایک شخص جاں بحق ایران امریکا مذاکرات کی افواہیں، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ، ڈالر معمولی سستا ڈیزل کی قیمت میں کمی، ٹرانسپورٹ کرایوں میں 15 فیصد تک کمی کا اعلان ورلڈ کپ 2026 میں اون گولز کی غیر معمولی زیادتی، ریکارڈ ٹوٹنے کا امکان بھارت اے کی ٹرائی سیریز فائنل میں فتح، سری لنکا اے کو 66 رنز سے شکست ورلڈ کپ 2026: جرمن ٹیم کو امریکا میں سخت سیکیورٹی چیک کا سامنا، ویڈیو وائرل ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: بنگلہ دیش نے پاکستان کو 23 رنز سے شکست دے دی
پاکستان خبر

ایران امریکا جوہری معاہدے سے اسرائیلی پالیسی میں تبدیلی نہیں آئے گی، نیتن یاہو

ایران امریکا جوہری معاہدے سے اسرائیلی پالیسی میں تبدیلی نہیں آئے گی، نیتن یاہو

تل ابیب( مانیٹرنگ ڈیسک) تل ابیب میں اسرائیلی وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے جوہری معاہدے سے اسرائیل کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو معاہدے کی تفصیلات کا مکمل علم نہیں ہے، تاہم اس سفارتی پیش رفت کے باوجود اسرائیل کی سکیورٹی اور فوجی پالیسی وہی رہے گی۔نیتن یاہو نے واضح کیا کہ معاہدہ ہو یا نہ ہو، ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے۔انہوں نے ایران کے خلاف حالیہ اسرائیلی کارروائیوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد بڑے خطرات کو روکنا تھا۔ان کے مطابق امریکا کے ساتھ مل کر اسرائیل نے ایران کے جوہری پروگرام اور عسکری ڈھانچے کو نشانہ بنایا، جس سے ایران کی دفاعی صلاحیتوں اور معیشت کو بھاری نقصان پہنچا۔نیتن یاہو نے مزید کہا کہ ایران کو ہونے والے معاشی نقصان کی بحالی میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں، جبکہ بعض اندازوں کے مطابق یہ نقصان کھربوں ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔