تازہ ترین
صدر اور وزیراعظم کا یوم سیاہ کشمیر پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی پاکستان ہر عالمی فورم پر کشمیریوں کی آواز بلند کرتا رہے گا، اسحاق ڈار یوم سیاہ کشمیر پر آئی ایس پی آر کا خصوصی نغمہ جاری کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں، عالمی برادری سے حق خودارادیت کا مطالبہ ایران کا مکہ دفاعی اتحاد کے رکن ممالک سے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق مغربی کنارے میں اسرائیل پر انسانیت کے خلاف جرائم کا الزام ایرانی فنڈنگ کے بعد حزب اللہ کی ممکنہ جنگ کیلئے تیاریاں دبئی میں غلط جگہ سے سڑک پار کرنے پر 30 ہزار روپے جرمانہ 5 سال میں 11 ہزار ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ دیے جانے کا انکشاف سنگاپور اور سعودی آرامکو کا 2027 سے زیرِ سمندر تیل ذخیرہ کرنے کا منصوبہ ملک بھر میں ایل پی جی مہنگی، لاہور اور جڑواں شہروں میں 600 روپے فی کلو ویمنز ایمرجنگ نیشنز ٹرافی، منیبہ علی پاکستان ٹیم کی کپتان مقرر مقامی ایل پی جی کی نصف سے زائد پیداوار پر 45 کمپنیوں کی اجارہ داری پاتھم نسانکا انجری کے باعث پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے باہر پاکستان نے ورلڈ نو میڈ ایم ایم اے ٹورنامنٹ میں دوسری پوزیشن حاصل کرلی ٹینس اسٹار ارینا سبالنکا یو ایف سی مقابلے دیکھنے ابو ظبی پہنچ گئیں
پاکستان خبر

ایرانی صدر کا امریکی عوام کے نام کھلا خط، جنگ پر سوالات اٹھا دیے

ایرانی صدر کا امریکی عوام کے نام کھلا خط، جنگ پر سوالات اٹھا دیے

تہران( مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے امریکی عوام کے نام کھلا خط جاری کیا ہے، جس میں مشرق وسطیٰ میں مسلط کی گئی جنگ اور ٹرمپ انتظامیہ کے اقدامات پر اہم سوالات اٹھائے گئے ہیں۔صدر پزشکیان نے خط میں پوچھا کہ آیا واشنگٹن واقعی امریکا فرسٹ پالیسی پر عمل کر رہا ہے یا اسرائیل کی نمائندگی کرتے ہوئے آخری امریکی فوجی تک جنگ لڑنے پر تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کو امریکی عوام سے کوئی دشمنی نہیں، اور امریکی عوام کو گھڑی ہوئی کہانیوں سے ہٹ کر حقیقت دیکھنی چاہیے۔ایرانی صدر نے کہا کہ ایران نے جدید تاریخ میں کبھی جارحیت یا توسیع پسندی کا راستہ اختیار نہیں کیا، اور ہمیشہ حملہ آوروں کا مقابلہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کو خطرہ بنا کر پیش کرنا طاقتور حلقوں کے سیاسی اور معاشی مفادات کا نتیجہ ہے۔صدر پزشکیان نے سوال اٹھایا کہ اس جنگ سے امریکی عوام کے کون سے حقیقی مفادات حاصل ہو رہے ہیں؟ کیا ایران کی جانب سے کوئی حقیقی خطرہ موجود تھا؟ اور کیا معصوم بچوں کی ہلاکت یا توانائی و صنعتی تنصیبات پر حملے امریکی ساکھ کو بہتر بناتے ہیں؟انہوں نے بتایا کہ مذاکرات کے دوران ایران پر حملے کا فیصلہ امریکی حکومت کا تھا اور یہ حملے براہ راست ایرانی عوام کو نشانہ بناتے ہیں۔ایرانی صدر نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ اسرائیل ایران کے خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کر کے فلسطینیوں کے خلاف اپنے اقدامات سے توجہ ہٹا رہا ہے اور دنیا نازک موڑ پر کھڑی ہے، اس لیے تصادم کا راستہ بے فائدہ ہے۔