تازہ ترین
پاکستان اپنی سرزمین پر بیرونی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پرعزم ہے: وزیراعظم شہباز شریف پاکستان اور ایران کا خطے میں امن و استحکام کے لیے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق اسلام آباد ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ: غیر قانونی طور پر پی سی ایل میں نام شامل کرنا غیر قانونی قرار بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 8 دہشت گرد ہلاک: آئی ایس پی آر ایران کے جہاز پر حملے کے بعد امریکا کا سخت ردعمل کا اشارہ، کشیدگی میں اضافہ امریکی حملوں کے جواب میں خطے میں امریکی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا: ایران کا دعویٰ لبنان، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان سہ فریقی معاہدہ تنازعات کے خاتمے کی طرف اہم قدم قرار بھارت نے پاکستان کے ساتھ کشیدگی کے دوران ہلاک ہونے والے 6 فوجیوں کی شناخت ظاہر کر دی جیٹ فیول کی قیمت میں 7 روپے 15 پیسے کمی، نئی قیمت 231 روپے 72 پیسے مقرر عمان کے قریب کارگو جہاز پر حملہ، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں سے متعلق بین الاقوامی اشاریوں کا جائزہ لیا جائے گا: وزیر پٹرولیم پاکستان اور ترکیہ کے درمیان توانائی تعاون کے فروغ کیلئے تین اہم معاہدوں پر دستخط ویمن ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: پاکستان کا آخری گروپ میچ آج نیدرلینڈز کے خلاف ہو گا آئرلینڈ نے بھارت کو پہلے ٹی ٹوئنٹی میں 34 رنز سے شکست دے دی بھارت نے پاکستان کو ایف آئی ایچ پرو ہاکی لیگ میں 7-1 سے شکست دے دی پی سی بی نے ڈیپارٹمنٹل کرکٹ کی نئی پالیسی اور فیسوں کا اعلان کر دیا
پاکستان خبر

اسلام آباد ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ: غیر قانونی طور پر پی سی ایل میں نام شامل کرنا غیر قانونی قرار

اسلام آباد ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ: غیر قانونی طور پر پی سی ایل میں نام شامل کرنا غیر قانونی قرار

اسلام آباد( پاکستان خبر) سفری پابندیوں اور پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں نام شامل کرنے سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ نے اہم فیصلہ جاری کر دیا ہے۔عدالت نے قرار دیا ہے کہ کسی بھی شہری پر سفری پابندیاں صرف قانونی اختیار رکھنے والی اتھارٹی اور مقررہ قانونی طریقہ کار کے تحت ہی عائد کی جا سکتی ہیں۔فیصلے میں کہا گیا کہ بغیر قانونی طریقہ کار کے پاسپورٹ کنٹرول لسٹ (پی سی ایل) میں نام شامل کرنا غیر قانونی عمل ہے۔ عدالت نے شہری زین عتیق کا نام فوری طور پر اس فہرست سے نکالنے کا حکم دے دیا۔عدالتی فیصلے کے مطابق زین عتیق کو جولائی 2022 میں ترکیہ سے ملک بدری کے بعد پی سی ایل میں شامل کیا گیا تھا۔ بعد ازاں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے دو سال سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد اس کا نام فہرست سے نکالنے کی سفارش بھی کی، تاہم پاسپورٹ اتھارٹی نے اس پر عمل نہیں کیا۔عدالت نے قرار دیا کہ کسی شخص کو غیر قانونی داخلے یا ملک بدری کی بنیاد پر بغیر مجاز اتھارٹی کی منظوری کے غیر معینہ مدت تک پی سی ایل میں نہیں رکھا جا سکتا۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ ریکارڈ سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ کسی مجاز اتھارٹی نے درخواست گزار کا نام فہرست میں برقرار رکھنے کا حکم دیا ہو، اور نہ ہی اس کے خلاف کسی فوجداری مقدمے یا سزا کا کوئی ریکارڈ موجود ہے۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے شیریں مزاری کیس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شہریوں پر سفری پابندیاں صرف قانون کے مطابق ہی لگائی جا سکتی ہیں۔عدالت نے مزید کہا کہ متعلقہ حکام قانونی تقاضے پورے کرنے میں ناکام رہے ہیں، اس لیے درخواست گزار کا نام فوری طور پر پی سی ایل سے خارج کیا جائے۔