واشنگٹن( مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہیں ایران کی جانب سے جہاز پر حملہ اچھا نہیں لگا اور اس کا جواب دیا جائے گا۔وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ایران نے کل چار بار جہاز کو نشانہ بنایا، جن میں سے تین حملے ناکام بنا دیے گئے۔ انہوں نے کہا کہ اس پر ردعمل دیا جائے گا، اور اس کی تفصیلات جلد سامنے آ جائیں گی۔یہ واقعہ آبنائے ہرمز کے قریب پیش آیا، جہاں ایک کارگو جہاز کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ اس واقعے کے بعد خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور عالمی بحری راستوں کی سیکیورٹی پر خدشات بڑھ گئے ہیں۔امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ تشدد کا جواب تشدد سے دیا جائے گا، تاہم اختلافات کے حل کے لیے مذاکرات کا راستہ بھی موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر ایران کو کسی معاہدے یا انتظام پر اعتراض ہے تو وہ براہ راست رابطہ کر سکتا ہے، تاہم امریکہ کسی بھی حملے کو نظر انداز نہیں کرے گا۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ امریکہ خطے میں امن اور استحکام چاہتا ہے، لیکن ایران کو آبنائے ہرمز کے استعمال پر کسی قسم کی فیس یا ٹول وصول کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔دوسری جانب ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو متوازی راستوں کے ذریعے اور ایران کو نظر انداز کر کے محفوظ نہیں بنایا جا سکتا۔ ان کے مطابق انتظامی فریم ورک اسلام آباد میمورنڈم کی شق 5 کے مطابق ہونا چاہیے، بصورت دیگر متوازی بحری راستوں کی معطلی ناگزیر ہوگی۔
ایران کے جہاز پر حملے کے بعد امریکا کا سخت ردعمل کا اشارہ، کشیدگی میں اضافہ
واپس خبروں پر
Category:
عالمی خبریں