تازہ ترین
فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران پہنچ گئے، امن و سکیورٹی امور پر بات چیت ہوگی شہباز شریف سے مراد علی شاہ کی ملاقات، سیاسی رواداری و مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق بانی پی ٹی آئی کے بعد عام قیدی بھی نجی اسپتال سے علاج کیلئے عدالت پہنچ گئے آزاد کشمیر اسمبلی میں مسلم لیگ ن کی واضح برتری، ارکان کی تعداد 32 ہوگئی ایران پاکستان تعلقات بہترین مراحل میں ہیں: ایرانی ترجمان یورپی یونین کا اسرائیل سے ای ون آبادکاری منصوبہ روکنے کا مطالبہ اسرائیلی فوج نے 3 سال میں 30 سال جتنا گولہ بارود استعمال کرلیا ایران کا آبنائے ہرمز میں قوانین توڑنے والے جہازوں کو جرمانے، حراست اور ضبطی کا انتباہ پیٹرول پر 130، ڈیزل پر 122 روپے سے زائد ٹیکس و مارجنز عائد توانائی شعبے کا سرکلر ڈیٹ 5286 ارب روپے تک پہنچ گیا صدر زرداری کا کیٹی بندر کو اضافی بحری گیٹ وے بنانے کا حکم لاہور میں سبزیاں اور پھل مہنگے، قیمتوں میں 150 روپے کلو تک اضافہ انجری کے باعث نجیہہ علوی ایشیا کپ سے باہر، صدف شمس اسکواڈ میں شامل جیسوال اور اسیتھا فرنینڈو پر میچ فیس کا 25 فیصد جرمانہ 21 سابق کپتانوں کا عمران خان کے طبی معائنے اور علاج کا مطالبہ ایرلنگ ہالینڈ کا نیا ہیئر اسٹائل سوشل میڈیا پر وائرل
پاکستان خبر

لبنان، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان سہ فریقی معاہدہ تنازعات کے خاتمے کی طرف اہم قدم قرار

لبنان، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان سہ فریقی معاہدہ تنازعات کے خاتمے کی طرف اہم قدم قرار

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پگٹ نے کہا ہے کہ لبنان، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان طے پانے والا سہ فریقی معاہدہ ایک واضح اور مؤثر راستہ فراہم کرتا ہے، جو خطے میں جاری طویل تنازعات کے سلسلے کو ختم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے الجزیرہ کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ یہ معاہدہ لامتناہی تنازع کے چکر کو ختم کرنے کی ایک کوشش ہے، جس کے تحت لبنان کی حکومت کی خودمختاری کو بحال کیا جا رہا ہے جبکہ اسرائیل کی سلامتی کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے۔ترجمان کے مطابق امریکہ مسلسل اس عزم کا اظہار کر رہا ہے کہ لبنان کی حکومت کی صلاحیت اور ادارہ جاتی طاقت کو مزید مضبوط بنایا جائے۔ اس عمل کے تحت ابتدائی طور پر ایسے تجرباتی زونز قائم کیے جا رہے ہیں جہاں لبنان اپنی خودمختاری کو دوبارہ مستحکم کرنا شروع کرے گا۔اس حوالے سے امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات خطے میں دیرپا امن اور استحکام کی کوششوں کا حصہ ہیں۔