تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

اسلام آباد بلدیاتی انتخابات معا ملہ: وزیر داخلہ ذاتی حیثیت میں طلب، سیکریٹری داخلہ کو توہین کمیشن کا نوٹس

اسلام آباد بلدیاتی انتخابات معا ملہ: وزیر داخلہ ذاتی حیثیت میں طلب، سیکریٹری داخلہ کو توہین کمیشن کا نوٹس

اسلام آباد( پاکستان خبر)وفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کے معاملے پر الیکشن کمیشن نے وزیر داخلہ کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا جبکہ سیکریٹری داخلہ کو توہین کمیشن کا نوٹس جاری کیا گیا۔کیس کی سماعت چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے کی۔ چیف کمشنر اسلام آباد علی رندھاوا الیکشن کمیشن میں پیش ہوئے، تاہم سیکریٹری داخلہ پیش نہ ہوئے۔سماعت کے دوران چیف الیکشن کمشنر نے استفسار کیا کہ سیکریٹری داخلہ کہاں ہیں اور ہدایت دی کہ اگلی سماعت پر وزیر داخلہ کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر سیکریٹری پیش نہیں ہوں گے تو وزیر داخلہ کو آئندہ تمام سماعتوں میں خود پیش ہونا ہوگا۔الیکشن کمیشن حکام نے بتایا کہ سیکریٹری داخلہ کو خط بھیجا گیا لیکن تعاون نہیں کیا گیا، جس پر چیف الیکشن کمشنر نے سیکریٹری کو توہین کمیشن کا نوٹس جاری کرنے کی ہدایت دی۔سماعت کے دوران الیکشن کمیشن کے حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ ڈی مارکیشن نوٹی فکیشن اور اسلام آباد کا نقشہ، ممبر یونین کونسل کی تعداد طے کی جائے تاکہ ڈی لیمیٹیشن کا عمل شروع کیا جا سکے۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ آئی سی ٹی انتظامیہ اس معاملے کو ہلکا لے رہی ہے اور یہ انتخابات براہِ راست ان کی ذمہ داری ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ تین وفاقی وزرا کمیشن میں آئے اور یقین دہانی کروائی، مگر سخت کارروائی سے گریز نہ کیا گیا تو مزید اقدامات کیے جائیں گے۔ سماعت کے اختتام پر چیف الیکشن کمشنر نے ہدایت کی کہ منگل کو چیف کمشنر اسلام آباد پیش رفت سے آگاہ کریں۔ کیس کی سماعت اگلے منگل تک ملتوی کر دی گئی۔