تازہ ترین
نئے صوبوں کی بحث ڈرامہ ہے، ملیحہ لودھی پی ٹی آئی آزاد عدلیہ، الیکشن کمیشن کیلئے مارچ کررہی ہے: بیرسٹر گوہر کرم میں آپریشن، افغان خارجی سمیت 4 دہشتگرد ہلاک قائداعظم کی میراث، پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا ہے: شہباز شریف 11 9/ کی 25ویں برسی، نیو یارک میں خصوصی ڈرون لائٹ شو کا اہتمام برطانیہ میں پروازوں کا بحران، 12 ہزار سے زائد متاثر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کی حوثیوں پر کارروائی کی درخواست رد کردی منگولیا کے صدر نے 100 کلو وزن 20 بار اٹھا لیا پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کی لائسنسنگ کا عمل شروع پاکستان، آئی ایم ایف مذاکرات 23 ستمبر سے شروع ہونے کا امکان 4 روز میں پیٹرول تقریباً 25 روپے فی لیٹر مہنگا ہوا: رپورٹ پیٹرول 3 روپے 5 پیسے، ڈیزل 5 روپے 37 پیسے مہنگا تاپسی پنوں نے پاپارازی سے رویے کی وجہ بتادی غزہ پر فلم ’نازا‘ کو وینس فیسٹیول میں 25 منٹ داد سیف علی خان نے فلم ’کاک ٹیل‘ میں کام کو غلطی قرار دے دیا رتیش دیش مکھ کو پاپارازی نے 100 روپے دے کر بچالیا
پاکستان خبر

اسرائیل جنگ دوبارہ شروع کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے: بنیامین نیتن یاہو

اسرائیل جنگ دوبارہ شروع کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے: بنیامین نیتن یاہو

تل ابیب ( مانیٹرنگ ڈیسک) اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی پر ایک بار پھر سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کسی بھی وقت جنگ دوبارہ شروع کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔اپنے تازہ بیان میں انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے مزید اہداف باقی ہیں جنہیں یا تو کسی معاہدے کے ذریعے حاصل کیا جائے گا یا پھر جنگ کا راستہ اختیار کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران کے ساتھ ہونے والی جنگ بندی میں لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ شامل نہیں ہے۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج مکمل طور پر چوکس ہے اور ہر قسم کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے، کسی بھی خطرے یا فیصلے کی صورت میں فوری کارروائی کی جا سکتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ چاہے سفارتی راستہ اپنایا جائے یا فوجی طاقت استعمال کی جائے، اسرائیل ایران کے افزودہ یورینیم پروگرام کو ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔بنیامین نیتن یاہو نے اس بات پر بھی زور دیا کہ موجودہ جنگ بندی اسرائیل کے مکمل تعاون سے طے پائی، تاہم اسے تنازع کا خاتمہ نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ یہ ایک عارضی مرحلہ ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق اس بیان سے خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے اور جاری امن کوششیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔