تازہ ترین
صدر اور وزیراعظم کا یوم سیاہ کشمیر پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی پاکستان ہر عالمی فورم پر کشمیریوں کی آواز بلند کرتا رہے گا، اسحاق ڈار یوم سیاہ کشمیر پر آئی ایس پی آر کا خصوصی نغمہ جاری کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں، عالمی برادری سے حق خودارادیت کا مطالبہ ایران کا مکہ دفاعی اتحاد کے رکن ممالک سے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق مغربی کنارے میں اسرائیل پر انسانیت کے خلاف جرائم کا الزام ایرانی فنڈنگ کے بعد حزب اللہ کی ممکنہ جنگ کیلئے تیاریاں دبئی میں غلط جگہ سے سڑک پار کرنے پر 30 ہزار روپے جرمانہ 5 سال میں 11 ہزار ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ دیے جانے کا انکشاف سنگاپور اور سعودی آرامکو کا 2027 سے زیرِ سمندر تیل ذخیرہ کرنے کا منصوبہ ملک بھر میں ایل پی جی مہنگی، لاہور اور جڑواں شہروں میں 600 روپے فی کلو ویمنز ایمرجنگ نیشنز ٹرافی، منیبہ علی پاکستان ٹیم کی کپتان مقرر مقامی ایل پی جی کی نصف سے زائد پیداوار پر 45 کمپنیوں کی اجارہ داری پاتھم نسانکا انجری کے باعث پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے باہر پاکستان نے ورلڈ نو میڈ ایم ایم اے ٹورنامنٹ میں دوسری پوزیشن حاصل کرلی ٹینس اسٹار ارینا سبالنکا یو ایف سی مقابلے دیکھنے ابو ظبی پہنچ گئیں
پاکستان خبر

اسرائیل جنگ دوبارہ شروع کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے: بنیامین نیتن یاہو

اسرائیل جنگ دوبارہ شروع کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے: بنیامین نیتن یاہو

تل ابیب ( مانیٹرنگ ڈیسک) اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی پر ایک بار پھر سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کسی بھی وقت جنگ دوبارہ شروع کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔اپنے تازہ بیان میں انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے مزید اہداف باقی ہیں جنہیں یا تو کسی معاہدے کے ذریعے حاصل کیا جائے گا یا پھر جنگ کا راستہ اختیار کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران کے ساتھ ہونے والی جنگ بندی میں لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ شامل نہیں ہے۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج مکمل طور پر چوکس ہے اور ہر قسم کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے، کسی بھی خطرے یا فیصلے کی صورت میں فوری کارروائی کی جا سکتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ چاہے سفارتی راستہ اپنایا جائے یا فوجی طاقت استعمال کی جائے، اسرائیل ایران کے افزودہ یورینیم پروگرام کو ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔بنیامین نیتن یاہو نے اس بات پر بھی زور دیا کہ موجودہ جنگ بندی اسرائیل کے مکمل تعاون سے طے پائی، تاہم اسے تنازع کا خاتمہ نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ یہ ایک عارضی مرحلہ ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق اس بیان سے خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے اور جاری امن کوششیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔