تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

اسرائیل جنگ دوبارہ شروع کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے: بنیامین نیتن یاہو

اسرائیل جنگ دوبارہ شروع کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے: بنیامین نیتن یاہو

تل ابیب ( مانیٹرنگ ڈیسک) اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی پر ایک بار پھر سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کسی بھی وقت جنگ دوبارہ شروع کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔اپنے تازہ بیان میں انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے مزید اہداف باقی ہیں جنہیں یا تو کسی معاہدے کے ذریعے حاصل کیا جائے گا یا پھر جنگ کا راستہ اختیار کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران کے ساتھ ہونے والی جنگ بندی میں لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ شامل نہیں ہے۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوج مکمل طور پر چوکس ہے اور ہر قسم کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے، کسی بھی خطرے یا فیصلے کی صورت میں فوری کارروائی کی جا سکتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ چاہے سفارتی راستہ اپنایا جائے یا فوجی طاقت استعمال کی جائے، اسرائیل ایران کے افزودہ یورینیم پروگرام کو ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔بنیامین نیتن یاہو نے اس بات پر بھی زور دیا کہ موجودہ جنگ بندی اسرائیل کے مکمل تعاون سے طے پائی، تاہم اسے تنازع کا خاتمہ نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ یہ ایک عارضی مرحلہ ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق اس بیان سے خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے اور جاری امن کوششیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔