ٹوکیو ( ویب ڈیسک) جاپان نے خلائی تحقیق کے میدان میں اہم پیش رفت کرتے ہوئے مریخ کے چاند فوبوس کی جانب بغیر پائلٹ خلائی جہاز روانہ کردیا ہے۔ جاپانی خلائی ایجنسی جاکسا کا یہ خلائی جہاز ایچ تھری راکٹ کے ذریعے تانیگاشیما خلائی مرکز سے خلا میں بھیجا گیا۔ یہ نئے ایچ تھری راکٹ کا پہلا باقاعدہ مشن بھی ہے۔مشن کے منصوبے کے مطابق خلائی جہاز اگست 2027 میں مریخ کے علاقے تک پہنچنے کی توقع ہے۔ اس کے بعد یہ مریخ کے چاند فوبوس کا جائزہ لے گا اور اس کی سطح سے کم از کم 10 گرام مواد جمع کرے گا۔منصوبے کے تحت خلائی جہاز 2031 تک زمین پر واپس آئے گا اور اپنے ساتھ جمع کیے گئے نمونے بھی لائے گا۔ ان نمونوں کی سائنسی جانچ سے فوبوس کی ساخت اور اس کی تشکیل کے بارے میں اہم معلومات حاصل ہونے کی امید ہے۔جاپانی سائنس دانوں کو توقع ہے کہ اس مشن سے مریخ کے دونوں چاندوں، فوبوس اور ڈیموس، کی ابتدا کے بارے میں جاننے میں مدد ملے گی۔ یہ تحقیق نظام شمسی کے ابتدائی ارتقائی مراحل سے متعلق سوالات کے جوابات تلاش کرنے میں بھی معاون ثابت ہوسکتی ہے۔سائنس دانوں کے لیے فوبوس کے نمونے خاص اہمیت رکھتے ہیں، کیونکہ ان کے تجزیے سے یہ جاننے میں مدد مل سکتی ہے کہ یہ چاند کیسے وجود میں آیا اور اس کی سطح پر موجود مواد کی نوعیت کیا ہے۔یہ مشن جاپان کی خلائی تحقیق میں ایک اہم قدم ہے۔ اگر خلائی جہاز منصوبے کے مطابق نمونے زمین پر واپس لانے میں کامیاب ہوگیا تو ان کا تفصیلی مطالعہ مریخ اور اس کے چاندوں کی تاریخ سمجھنے کے نئے راستے کھول سکتا ہے۔