تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

اترکھنڈ میں کشمیری طلبہ کے داخلوں میں 67 فیصد کمی ریکارڈ

اترکھنڈ میں کشمیری طلبہ کے داخلوں میں 67 فیصد کمی ریکارڈ

نئی دہلی( مانیٹرنگ ڈیسک)بھارت میں کشمیری طلبہ کو مبینہ امتیازی سلوک اور عدم تحفظ کا سامنا ہے، جس کے باعث بعض ریاستوں میں ان کے داخلوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔بھارتی اخبار نیو انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق ریاست اترکھنڈ میں کشمیری طلبہ کی تعداد میں تقریباً 67 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ چند برس قبل یہاں تقریباً 6 ہزار کشمیری طلبہ زیرِ تعلیم تھے جو اب کم ہو کر تقریباً 2 ہزار رہ گئے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2019 کے پلواما واقعے کے بعد کشمیری طلبہ کے خلاف امتیازی رویے اور ہراسانی کے واقعات میں اضافہ ہوا، اور بعض طلبہ و والدین نے عدم تحفظ کے سبب دیگر ریاستوں میں منتقل ہونے یا تعلیم چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ سیاسی ماحول میں مذہبی اور نسلی بنیادوں پر تقسیم کے رجحانات بڑھ رہے ہیں، جس کے اثرات تعلیمی اداروں تک پہنچ رہے ہیں۔ ناقدین نے حکمران جماعت بی جے پی کی پالیسیوں پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ حکومت نے ان الزامات کی بارہا تردید کی ہے۔