تازہ ترین
پاکستان کی آبی سلامتی، عالمی فورمز سے رجوع کی درخواست مقرر راولپنڈی میں 6 ماہ کیلئے پاک فوج تعینات کرنے کی منظوری وزیراعظم کی سیلاب متاثرین کے خاندانوں اور تباہ شدہ گھروں کیلئے مالی امداد کی ہدایت عمران خان کی اسپتال منتقلی: عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست بنگلادیش کا پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی فریم ورک میں شمولیت پر مثبت عندیہ راجستھان میں کاکروچ جنتا پارٹی کارکنوں پر حملے کا الزام، بی جے پی سے وابستگی کا دعویٰ افغانستان میں طالبان مخالف مسلح مزاحمت میں تیزی، بدخشاں میں حملے عالمی میڈیا نے بھارتی دہشتگردی کے چہرے کو بے نقاب کردیا پاکستان میں ورچوئل اثاثہ جات کیلئے لائسنسنگ نظام متعارف آئی ایم ایف شرط پر اربوں ڈالر کی درآمدی بے ضابطگیاں دور، ڈیٹا اپ ڈیٹ درآمدی چینی میں سے ایک لاکھ 8 ہزار ٹن برآمد کرنے کا فیصلہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی، 100 انڈیکس 2938 پوائنٹس گر گیا ورلڈ کپ فائنل جھگڑا، فیفا نے ارجنٹینا اور اسپین کے کھلاڑیوں پر پابندیاں لگا دیں ورلڈ تائیکوانڈو کپ: ایران مجموعی طور پر فاتح، پومزے میں پاکستان کی حکمرانی مچل اسٹارک کی تباہ کن بولنگ، بنگلا دیش 64 رنز پر ڈھیر لیڈز ٹیسٹ میں شکست، سلمان علی آغا نے ٹیم کی خامیوں کی نشاندہی کردی
پاکستان خبر

اترکھنڈ میں کشمیری طلبہ کے داخلوں میں 67 فیصد کمی ریکارڈ

اترکھنڈ میں کشمیری طلبہ کے داخلوں میں 67 فیصد کمی ریکارڈ

نئی دہلی( مانیٹرنگ ڈیسک)بھارت میں کشمیری طلبہ کو مبینہ امتیازی سلوک اور عدم تحفظ کا سامنا ہے، جس کے باعث بعض ریاستوں میں ان کے داخلوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔بھارتی اخبار نیو انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق ریاست اترکھنڈ میں کشمیری طلبہ کی تعداد میں تقریباً 67 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ چند برس قبل یہاں تقریباً 6 ہزار کشمیری طلبہ زیرِ تعلیم تھے جو اب کم ہو کر تقریباً 2 ہزار رہ گئے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2019 کے پلواما واقعے کے بعد کشمیری طلبہ کے خلاف امتیازی رویے اور ہراسانی کے واقعات میں اضافہ ہوا، اور بعض طلبہ و والدین نے عدم تحفظ کے سبب دیگر ریاستوں میں منتقل ہونے یا تعلیم چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ سیاسی ماحول میں مذہبی اور نسلی بنیادوں پر تقسیم کے رجحانات بڑھ رہے ہیں، جس کے اثرات تعلیمی اداروں تک پہنچ رہے ہیں۔ ناقدین نے حکمران جماعت بی جے پی کی پالیسیوں پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ حکومت نے ان الزامات کی بارہا تردید کی ہے۔