تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

امریکا اور ایران کے نمائندوں کی سوئٹزرلینڈ میں اہم ملاقات طے

امریکا اور ایران کے نمائندوں کی سوئٹزرلینڈ میں اہم ملاقات طے

برگن اسٹاک، سوئٹزرلینڈ (مانیٹرنگ ڈیسک)مفاہمتی معاہدے پر دستخط کے بعد امریکا اور ایران کے نمائندے پاکستان، قطر اور دیگر متعلقہ ممالک کے اعلیٰ حکام کے ساتھ کل (جمعے کو) سوئٹزرلینڈ کے برگن اسٹاک میں ملاقات کریں گے۔سوئس وزارتِ خارجہ کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی معاہدے کے بعد اس پر عمل درآمد سے متعلق ابتدائی مذاکرات برگن اسٹاک ریزورٹ میں ہوں گے، جہاں مختلف فریقین شریک ہوں گے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس اجلاس میں امریکا اور ایران کے نمائندوں کے ساتھ ثالثی کرنے والے ممالک، جن میں پاکستان اور قطر بھی شامل ہیں، شرکت کریں گے۔ تاہم اجلاس کے شیڈول اور تفصیلات ابھی تک مکمل طور پر جاری نہیں کی گئیں۔رپورٹس کے مطابق اس سے قبل فرانس کے تاریخی ورسائی محل میں ہونے والے ایک عشائیے کے دوران اہم سفارتی پیش رفت سامنے آئی، جس کے بعد صورتحال میں تیزی آئی۔وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کی موجودگی میں ایران کے ساتھ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے، جبکہ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی اس معاہدے پر دستخط کیے۔یہ معاہدہ نافذ العمل ہو چکا ہے اور اس کا بنیادی مقصد کشیدگی میں کمی اور جنگ کے خاتمے کی جانب پیش رفت بتایا جا رہا ہے، جبکہ اسی پیش رفت کے باعث جنیوا میں طے شدہ باضابطہ دستخطی تقریب منسوخ کر دی گئی ہے۔