پشاور( کامرس ڈیسک)پختونخوا کا نئے مالی سال کے لیے 50 ارب روپے سے زائد خسارے کا بجٹ آج پیش کیا جائے گا، جسے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی خود ایوان میں پیش کریں گے۔اسمبلی قواعد کے مطابق صرف منتخب رکن ہی بجٹ پیش کر سکتا ہے، اسی وجہ سے مشیر خزانہ مزمل اسلم منتخب رکن نہ ہونے کے باعث یہ ذمہ داری وزیراعلیٰ کو سونپی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کے بجٹ کا مجموعی حجم 2170 ارب روپے سے زائد رکھا گیا ہے۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ اس بار کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جائے گا تاہم موجودہ ٹیکسوں کی شرح میں ردوبدل کا امکان موجود ہے۔صوبائی حکومت کے مطابق ترقیاتی پروگرام کا حجم 519 ارب روپے سے زیادہ تجویز کیا گیا ہے، جس میں 235 ارب روپے صوبائی وسائل سے خرچ کیے جائیں گے جبکہ 150 ارب روپے بین الاقوامی امدادی اداروں کے تعاون سے جاری منصوبوں پر لگائے جائیں گے۔ضم شدہ اضلاع کے لیے 27 ارب روپے اور تیز رفتار ترقیاتی پروگرام کے لیے 52 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ سرکاری اداروں کے لیے مجموعی طور پر 55 ارب روپے رکھنے کی سفارش بھی شامل ہے۔ذرائع کے مطابق سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ 2022 اور 2025 کے ایڈہاک ریلیف کو ضم کرنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔بجٹ میں وفاق سے 1443 ارب روپے اور پن بجلی خالص منافع کی مد میں 105 ارب روپے سے زائد آمدن کی توقع ظاہر کی گئی ہے، جبکہ صوبائی وسائل سے 180 ارب روپے آمدن کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔مزید تجاویز میں صحت کارڈ کے فنڈز میں اضافہ، نوجوانوں کے روزگار کے لیے 50 ارب روپے کا فنڈ اور الیکٹرک تھری وہیلرز کے لیے قرضہ اسکیم متعارف کرانے کی تجویز شامل ہے۔