پشاور (پاکستان خبر) گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ اگر مریم نواز باکو میں روٹیاں لگا سکتی ہیں تو خیبر پختونخوا کو گندم کیوں نہیں دی جا سکتی۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبے کے حقوق کے لیے وزیراعلیٰ ہاؤس اور گورنر ہاؤس مل کر کام کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ہمیشہ وفاق اور صوبوں کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کی بات کرتے ہیں اور کوشش کریں گے کہ صوبے کے مسائل کو حل کیا جائے۔فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے مسائل کے حل کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر کام کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی میں گروپ بندی ان کا اندرونی معاملہ ہے، تاہم قبل از وقت رائے دینا مناسب نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ گندم پر پابندی آئین کی خلاف ورزی ہے اور پنجاب سے گندم کی فراہمی سونے کے بسکٹ لانے سے بھی مشکل بنا دی گئی ہے۔ ان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو اس مسئلے کو فوری حل کرنا چاہیے یا سندھ سے گندم منگوانے میں رکاوٹیں دور کی جائیں۔گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ پنجاب کی جانب سے آٹے اور گندم کی فراہمی میں رکاوٹیں صوبے کے عوام کے ساتھ زیادتی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر خیبر پختونخوا سے بجلی، گیس اور پانی بھی روک دیا جائے تو کیا صورتحال ہوگی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ وفاق خیبر پختونخوا کو اس کے حقوق نہیں دے رہا اور تمام سیاسی جماعتوں کو ملک کے وسیع تر مفاد میں سوچنا چاہیے۔
گورنر خیبر پختونخوا کا پنجاب حکومت پر گندم کی فراہمی سے متعلق سخت ردعمل
واپس خبروں پر
Category:
پاکستان