تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

لاہور ہائی کورٹ میں بچوں پر سوشل میڈیا پابندی کی سماعت

لاہور ہائی کورٹ میں بچوں پر سوشل میڈیا پابندی کی سماعت

لاہور( پاکستان خبر)لاہور ہائی کورٹ میں سولہ سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کرنے کے لیے دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔ یہ درخواست آٹھویں جماعت کی طالبہ علایا سلیم نے اپنی وکیل شیزا قریشی کے ذریعے دائر کی تھی۔چیف جسٹس مس عالیہ نیلم نے سماعت کے دوران وفاقی حکومت، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) اور دیگر متعلقہ اداروں سے ایک ہفتے کے اندر جواب طلب کر لیا۔ عدالت نے کہا کہ یہ ایک اہم معاملہ ہے اور اس پر فوری توجہ دی جائے۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ سوشل میڈیا بچوں کی ذہنی، اخلاقی اور تعلیمی نشوونما پر منفی اثر ڈال رہا ہے اور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے۔مزید کہا گیا کہ ٹک ٹاک سمیت دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا استعمال کمسن بچوں کی نفسیات پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے۔ درخواست میں استدعا کی گئی کہ سولہ سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کی جائے۔