تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

ایل پی جی بحران کے خدشات، خلیجی بارڈر بند ہونے سے قیمتیں بڑھنے کا اندیشہ

ایل پی جی بحران کے خدشات، خلیجی بارڈر بند ہونے سے قیمتیں بڑھنے کا اندیشہ

لاہور( کامرس ڈیسک) مشرق وسطیٰ میں جاری جنگی صورتحال کے سبب ایران اور خلیجی ممالک کے بارڈر بند ہونے سے ملک میں ایل پی جی بحران کے خدشات بڑھ گئے ہیں، اور اوگرا نے مارچ کے لیے تاحال ایل پی جی کی قیمتیں اعلان نہیں کی ہیں۔ذرائع کے مطابق اگر جنگ طویل رہی تو ایل پی جی کی شدید قلت پیدا ہو سکتی ہے، ملک بھر میں ایل پی جی کی یومیہ کھپت تقریباً سات ہزار میٹرک ٹن تک جاتی ہے، جبکہ صرف لاہور ریجن میں یومیہ 14 سو سے 15 سو میٹرک ٹن گیس استعمال ہوتی ہے۔ لوکل پروڈکشن یومیہ 2 ہزار سے 22 سو میٹرک ٹن ہے اور سرکاری طور پر 3 سے 4 روز کا سٹاک موجود ہوتا ہے، جبکہ نجی سطح پر زیادہ دنوں تک سٹاک کی سہولت دستیاب ہے۔ذرائع کے مطابق مافیا پہلے ہی مصنوعی قلت پیدا کر کے بلیک مارکیٹنگ میں سرگرم ہے، جبکہ فروری میں ایل پی جی کی قیمت سرکاری طور پر 226 روپے فی کلو مقرر تھی، تاہم شہر میں 300 سے 320 روپے فی کلو فروخت ہو رہی ہے۔چیئرمین ایل پی جی انڈسٹریز ایسوسی ایشن عرفان کھوکھر نے کہا کہ جنگ کی وجہ سے انرجی کرائسسز بڑھ جائیں گے، مافیا مصنوعی قلت پیدا کر کے قیمتیں بڑھا سکتا ہے، اور حکومت کو فوری تدابیر اختیار کرنی چاہئیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے سپیشل مانیٹرنگ ٹیمیں تشکیل دی جائیں تاکہ عوام کو بحران سے بچایا جا سکے۔