تازہ ترین
فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران پہنچ گئے، امن و سکیورٹی امور پر بات چیت ہوگی شہباز شریف سے مراد علی شاہ کی ملاقات، سیاسی رواداری و مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق بانی پی ٹی آئی کے بعد عام قیدی بھی نجی اسپتال سے علاج کیلئے عدالت پہنچ گئے آزاد کشمیر اسمبلی میں مسلم لیگ ن کی واضح برتری، ارکان کی تعداد 32 ہوگئی ایران پاکستان تعلقات بہترین مراحل میں ہیں: ایرانی ترجمان یورپی یونین کا اسرائیل سے ای ون آبادکاری منصوبہ روکنے کا مطالبہ اسرائیلی فوج نے 3 سال میں 30 سال جتنا گولہ بارود استعمال کرلیا ایران کا آبنائے ہرمز میں قوانین توڑنے والے جہازوں کو جرمانے، حراست اور ضبطی کا انتباہ پیٹرول پر 130، ڈیزل پر 122 روپے سے زائد ٹیکس و مارجنز عائد توانائی شعبے کا سرکلر ڈیٹ 5286 ارب روپے تک پہنچ گیا صدر زرداری کا کیٹی بندر کو اضافی بحری گیٹ وے بنانے کا حکم لاہور میں سبزیاں اور پھل مہنگے، قیمتوں میں 150 روپے کلو تک اضافہ انجری کے باعث نجیہہ علوی ایشیا کپ سے باہر، صدف شمس اسکواڈ میں شامل جیسوال اور اسیتھا فرنینڈو پر میچ فیس کا 25 فیصد جرمانہ 21 سابق کپتانوں کا عمران خان کے طبی معائنے اور علاج کا مطالبہ ایرلنگ ہالینڈ کا نیا ہیئر اسٹائل سوشل میڈیا پر وائرل
پاکستان خبر

آئندہ مالی سال کے لیے معاشی اہداف مقرر، شرح نمو 4 فیصد کا ہدف

آئندہ مالی سال کے لیے معاشی اہداف مقرر، شرح نمو 4 فیصد کا ہدف

اسلام آباد( کامرس ڈیسک)آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے مجموعی قومی پیداوار کی شرح نمو چار فیصد مقرر کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔سرکاری دستاویز کے مطابق زرعی شعبے کی ترقی کا ہدف 3.8 فیصد اور صنعتی شعبے کا ہدف 4.5 فیصد مقرر کیا جائے گا، جبکہ مہنگائی کی شرح 8.2 فیصد تک رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ اسی طرح سرمایہ کاری کا ہدف مجموعی قومی پیداوار کے 15 فیصد تک مقرر کیا گیا ہے۔برآمدات کے حوالے سے آئندہ مالی سال میں 32.9 ارب ڈالر کا ہدف رکھا گیا ہے، جبکہ خدمات کی برآمدات 11 ارب 30 کروڑ ڈالر تک پہنچانے کی منصوبہ بندی ہے۔ درآمدات کا تخمینہ 70 ارب ڈالر اور ترسیلات زر کا ہدف 42 ارب 40 کروڑ ڈالر مقرر کیا جائے گا۔ترقیاتی منصوبوں میں مہمند ڈیم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے لیے 26 ارب روپے، داسو پاور منصوبے کے لیے 21 ارب روپے، کراچی بلک واٹر سپلائی کے لیے 10 ارب روپے اور دانش اسکولز کے لیے 22 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، جبکہ وزیر اعظم ہیلتھ پروگرام کے لیے 3 ارب روپے رکھنے کا امکان ہے۔ریلوے کے ایم ایل ون منصوبے کے لیے 25 ارب روپے، سندھ کوسٹل ہائی وے کے لیے 25 ارب روپے اور مہران ہائی وے کے لیے 21 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔آئی ٹی برآمدات کا ہدف 7 ارب 30 کروڑ ڈالر مقرر کیا جائے گا، جبکہ آئی ٹی شعبے میں ساڑھے سات ہزار نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے کی منصوبہ بندی بھی شامل ہے۔