تازہ ترین
ایران امریکا کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں، پاکستان کا مذاکرات کا مطا لبہ الیکشن قوانین میں اصلاحات کا فیصلہ، الیکشن کمیشن نے لیگل ریفارمز کمیٹی فعال کر دی وفاقی آئینی عدالت کے اہم فیصلے، حارث اسٹیل ملز ریفرنس پر نیب کو نوٹس صدر زرداری نے تین اہم سمریوں کی منظوری دے دی امریکا کا ایران پر مزید حملوں کا دعویٰ، بندر عباس سمیت اہم عسکری تنصیبات نشانے پر ایران کا کویت اور اردن میں امریکی تنصیبات پر حملوں کا دعویٰ میانمار کے قریب دو کشتیاں الٹ گئیں، 500 سے زائد روہنگیا پناہ گزینوں کی ہلاکت کا خدشہ برطانیہ میں 14 سالہ لڑکے پر دہشت گردی کی منصوبہ بندی کا مقدمہ درج پاکستان، ترکیہ بزنس کانفرنس میں سرمایہ کاری اور صنعتی تعاون بڑھانے پر اتفاق پاکستان کی سعودی عرب سے 6.7 ارب ڈالر کے رعایتی آئل فنانسنگ پیکیج کی درخواست سیاسی بینر لہرانے پر ارجنٹائن کو فیفا کارروائی کا سامنا متو قع واشنگٹن فریڈم نے ٹی ٹوئنٹی تاریخ کا سب سے بڑا ہدف حاصل کر لیا ماڈل ہما سلیم کا نامعلوم کرکٹر پر ہراسانی کا الزام، قانونی کارروائی کا اعلان مفتی عبدالقوی کا خود کو ’ٹھرکی‘ قرار دینے کا بیان وائرل یوٹیوب نے کم معیار کے مواد پر مونیٹائزیشن سخت کرنے کا فیصلہ کر لیا شدید شمسی طوفان ٹیکنالوجی اور مواصلاتی نظام کے لیے بڑا خطرہ قرار
پاکستان خبر

آئندہ مالی سال کے لیے معاشی اہداف مقرر، شرح نمو 4 فیصد کا ہدف

آئندہ مالی سال کے لیے معاشی اہداف مقرر، شرح نمو 4 فیصد کا ہدف

اسلام آباد( کامرس ڈیسک)آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے مجموعی قومی پیداوار کی شرح نمو چار فیصد مقرر کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔سرکاری دستاویز کے مطابق زرعی شعبے کی ترقی کا ہدف 3.8 فیصد اور صنعتی شعبے کا ہدف 4.5 فیصد مقرر کیا جائے گا، جبکہ مہنگائی کی شرح 8.2 فیصد تک رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ اسی طرح سرمایہ کاری کا ہدف مجموعی قومی پیداوار کے 15 فیصد تک مقرر کیا گیا ہے۔برآمدات کے حوالے سے آئندہ مالی سال میں 32.9 ارب ڈالر کا ہدف رکھا گیا ہے، جبکہ خدمات کی برآمدات 11 ارب 30 کروڑ ڈالر تک پہنچانے کی منصوبہ بندی ہے۔ درآمدات کا تخمینہ 70 ارب ڈالر اور ترسیلات زر کا ہدف 42 ارب 40 کروڑ ڈالر مقرر کیا جائے گا۔ترقیاتی منصوبوں میں مہمند ڈیم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے لیے 26 ارب روپے، داسو پاور منصوبے کے لیے 21 ارب روپے، کراچی بلک واٹر سپلائی کے لیے 10 ارب روپے اور دانش اسکولز کے لیے 22 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، جبکہ وزیر اعظم ہیلتھ پروگرام کے لیے 3 ارب روپے رکھنے کا امکان ہے۔ریلوے کے ایم ایل ون منصوبے کے لیے 25 ارب روپے، سندھ کوسٹل ہائی وے کے لیے 25 ارب روپے اور مہران ہائی وے کے لیے 21 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔آئی ٹی برآمدات کا ہدف 7 ارب 30 کروڑ ڈالر مقرر کیا جائے گا، جبکہ آئی ٹی شعبے میں ساڑھے سات ہزار نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے کی منصوبہ بندی بھی شامل ہے۔