اسلام آباد( کامرس ڈیسک)آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے مجموعی قومی پیداوار کی شرح نمو چار فیصد مقرر کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔سرکاری دستاویز کے مطابق زرعی شعبے کی ترقی کا ہدف 3.8 فیصد اور صنعتی شعبے کا ہدف 4.5 فیصد مقرر کیا جائے گا، جبکہ مہنگائی کی شرح 8.2 فیصد تک رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ اسی طرح سرمایہ کاری کا ہدف مجموعی قومی پیداوار کے 15 فیصد تک مقرر کیا گیا ہے۔برآمدات کے حوالے سے آئندہ مالی سال میں 32.9 ارب ڈالر کا ہدف رکھا گیا ہے، جبکہ خدمات کی برآمدات 11 ارب 30 کروڑ ڈالر تک پہنچانے کی منصوبہ بندی ہے۔ درآمدات کا تخمینہ 70 ارب ڈالر اور ترسیلات زر کا ہدف 42 ارب 40 کروڑ ڈالر مقرر کیا جائے گا۔ترقیاتی منصوبوں میں مہمند ڈیم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے لیے 26 ارب روپے، داسو پاور منصوبے کے لیے 21 ارب روپے، کراچی بلک واٹر سپلائی کے لیے 10 ارب روپے اور دانش اسکولز کے لیے 22 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، جبکہ وزیر اعظم ہیلتھ پروگرام کے لیے 3 ارب روپے رکھنے کا امکان ہے۔ریلوے کے ایم ایل ون منصوبے کے لیے 25 ارب روپے، سندھ کوسٹل ہائی وے کے لیے 25 ارب روپے اور مہران ہائی وے کے لیے 21 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔آئی ٹی برآمدات کا ہدف 7 ارب 30 کروڑ ڈالر مقرر کیا جائے گا، جبکہ آئی ٹی شعبے میں ساڑھے سات ہزار نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے کی منصوبہ بندی بھی شامل ہے۔