تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

سعودی عرب کی بڑی مالی مدد، پاکستان کو دو ارب ڈالر موصول، ذخائر کو سہارا مل گیا

سعودی عرب کی بڑی مالی مدد، پاکستان کو دو ارب ڈالر موصول، ذخائر کو سہارا مل گیا

کراچی(کامرس ڈیسک) پاکستان کو سعودی عرب کی جانب سے دو ارب ڈالر کے ڈپازٹ موصول ہو گئے ہیں، جس سے ملکی زرمبادلہ ذخائر کو سہارا ملے گا۔سٹیٹ بینک نے تصدیق کی ہے کہ سعودی عرب نے نہ صرف دو ارب ڈالر فراہم کیے بلکہ موجودہ پانچ ارب ڈالر کے ڈپازٹ کی مدت میں بھی توسیع کر دی ہے، جسے اب طویل مدت کے لیے برقرار رکھا جائے گا۔وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق یہ ڈپازٹ اب سالانہ بنیاد پر تجدید کا پابند نہیں رہے گا بلکہ اسے مستقل بنیادوں پر بڑھا دیا گیا ہے، جو پاکستان کی مالی ضروریات کے لیے اہم پیش رفت ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ یہ معاونت ایسے وقت میں ملی ہے جب ملک کو بیرونی مالیاتی دباؤ کا سامنا ہے، اس اقدام سے زرمبادلہ ذخائر مضبوط ہوں گے اور بیرونی کھاتوں میں استحکام آئے گا۔مزید بتایا گیا ہے کہ حکومت معاشی پروگرام کے تحت ذخائر کو اٹھارہ ارب ڈالر تک بڑھانے کے لیے کوشاں ہے تاکہ درآمدات کے لیے مناسب مالی گنجائش برقرار رکھی جا سکے۔ذرائع کے مطابق رواں ماہ متحدہ عرب امارات کو تین اعشاریہ پانچ ارب ڈالر کی ادائیگی درکار ہے، تاہم سعودی تعاون کے باعث اس ادائیگی کے اثرات کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔