تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

مشرق وسطیٰ بحران بڑا معاشی جھٹکا ہے وزیر خزانہ کا عالمی اجلاس میں اظہار خیال

مشرق وسطیٰ بحران بڑا معاشی جھٹکا ہے وزیر خزانہ کا عالمی اجلاس میں اظہار خیال

واشنگٹن( کامرس ڈیسک) وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری بحران حالیہ تاریخ کے بڑے معاشی جھٹکوں میں شمار ہوتا ہے، جس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے عالمی مالیاتی ادارے اور عالمی بینک کے بہاری اجلاس دو ہزار چھبیس کے موقع پر منعقدہ مشرق وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان خطے کے اجلاس میں شرکت کی، جہاں وزرائے خزانہ، مرکزی بینک کے سربراہان اور علاقائی مالیاتی اداروں کے نمائندگان موجود تھے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت نے اس صورتحال کے ابتدائی اثرات سے نمٹنے کے لیے درآمدی حکمت عملی، قیمتوں کے نظام اور ترسیل کے نظام میں ضروری تبدیلیاں کی ہیں۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وسیع پیمانے پر سبسڈی دینے کے بجائے ہدفی معاونت کو فروغ دیا جا رہا ہے تاکہ معاشرے کے کمزور طبقات کو مؤثر تحفظ فراہم کیا جا سکے۔وزیر خزانہ نے عالمی معاشی دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے حکومتی اقدامات پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ معیشت کو مستحکم رکھنے کے لیے مربوط حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے۔