تازہ ترین
خیبرپختونخوا میں انسانی حقوق کی شکایات کیلئے ڈیجیٹل پورٹل کا فیصلہ فضل الرحمان کا خواجہ آصف پر انہی کے مشہور جملے سے وار شہباز شریف نے ن لیگ خیبرپختونخوا کا اجلاس آج طلب کرلیا نورین نیازی کی طبیعت خراب، پی ٹی آئی کا اظہارِ تشویش ٹرمپ کی ایران جنگ نے امریکا کو مزید غیر محفوظ بنا دیا: اوباما قطر کی ایران کو جوہری تنصیبات کے معائنے کی اجازت پر آمادہ کرنے کی کوشش امریکا کی ایران سے مذاکرات بحال کرنے کی کوشش، جے ڈی وینس کا خط اسرائیلی انتخابات: نیتن یاہو اکثریت سے محروم، اپوزیشن کا مینڈیٹ کا دعویٰ مریم نواز کی کاروباری مسائل حل کرنے کی یقین دہانی بینکوں میں نقد لین دین کی رپورٹنگ حد 30 لاکھ روپے مقرر برآمدات بڑھانے کیلئے جی ایس پی پلس سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے: اسحاق ڈار قرضوں پر سود کی ادائیگیاں 80 کھرب روپے تک پہنچنے کا تخمینہ مائیکروسافٹ کا اے آئی نظام پیچیدہ بیماریوں کی تشخیص میں ڈاکٹروں سے آگے نیدرلینڈز میں اے آئی سے 25 ہزار سرکاری نوکریاں ختم کرنے کا منصوبہ اے آئی اسٹارٹ اپ کا اینتھروپک کے اندرونی نظام تک رسائی کا دعویٰ اسٹار لنک صارفین کی نگرانی کا الزام، اسرائیلی کمپنی پر تحقیقات
پاکستان خبر

میرا سیٹھی کی طلاق کے تجربے پر پہلی بار کھل کر گفتگو

میرا سیٹھی کی طلاق کے تجربے پر پہلی بار کھل کر گفتگو

کراچی (شو بزڈیسک) پاکستانی اداکارہ، مصنفہ اور میزبان میرا سیٹھی نے پہلی مرتبہ اپنی ازدواجی زندگی اور طلاق کے تجربے پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ شادی کرنا اور بعد ازاں علیحدگی کا فیصلہ ان کی اپنی مرضی تھی، اس لیے وہ اس کا ذمہ دار کسی دوسرے شخص کو نہیں سمجھتیں۔ایک حالیہ پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے میرا سیٹھی نے کہا کہ طلاق کے بعد انہیں زندگی کے کئی اہم پہلو سمجھنے کا موقع ملا۔ ان کے مطابق اس تجربے سے انہیں یہ سبق ملا کہ انسان کو ہر فیصلہ صرف اپنی اندرونی کیفیت یا احساس کی بنیاد پر نہیں کرنا چاہیے، جبکہ کسی بھی رشتے کو برقرار رکھنے کے لیے اپنی اصل شخصیت کو تبدیل کرنا بھی درست نہیں۔انہوں نے کہا کہ چاہے تعلق شریکِ حیات سے ہو، دوست سے، کام کی جگہ پر کسی ساتھی سے یا کسی اور شخص سے، دوسروں کی خواہشات کے مطابق خود کو مکمل طور پر بدل دینا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔میرا سیٹھی کا کہنا تھا کہ لوگ اکثر چاہتے ہیں کہ سامنے والا ان کی پسند کے مطابق ڈھل جائے، تاہم وقت کے ساتھ انہیں احساس ہوا کہ اپنی شناخت اور شخصیت کو برقرار رکھنا زیادہ اہم ہے۔اداکارہ نے کہا کہ ازدواجی زندگی کے اختتام کا مرحلہ ان کے لیے مشکل ضرور تھا، لیکن اس تجربے نے انہیں ذہنی طور پر مزید مضبوط اور بالغ بنایا۔ ان کے مطابق اب وہ اس مرحلے سے آگے بڑھ چکی ہیں اور اسی لیے اس موضوع پر بات کرنے میں انہیں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوتی۔میرا سیٹھی نے معاشرے میں طلاق یافتہ خواتین کے حوالے سے موجود رویوں پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ اکثر خواتین کو علیحدگی کے بعد تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور انہیں رشتہ ناکام ہونے کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کی شادی کسی دباؤ یا مجبوری کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ انہوں نے اپنی مرضی، محبت اور سوچ سمجھ کر یہ فیصلہ کیا تھا۔ اسی لیے وہ اپنی طلاق کی ذمہ داری بھی خود قبول کرتی ہیں اور نہ سابق شوہر کو موردِ الزام ٹھہراتی ہیں نہ کسی اور کو۔واضح رہے کہ میرا سیٹھی معروف صحافتی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کے والد نجم سیٹھی اور والدہ جگنو محسن پاکستان کی نمایاں صحافتی شخصیات ہیں، جبکہ ان کے بھائی علی سیٹھی موسیقی کے شعبے میں معروف نام ہیں۔میرا سیٹھی نے نومبر 2019 میں کیلیفورنیا میں بلال صدیقی سے شادی کی تھی، تاہم یہ رشتہ 2023 میں طلاق پر ختم ہو گیا۔ انہوں نے گزشتہ برس عوامی سطح پر اپنی علیحدگی کی تصدیق کی تھی۔ وہ کچھ ان کہی، محبت صبح کا ستارہ ہے، چپکے چپکے اور ڈاکٹر بہو سمیت کئی مقبول ڈراموں میں اداکاری کر چکی ہیں۔