تازہ ترین
پاکستان کی سلامتی و ترقی مشترکہ ذمہ داری ہے، بلوچستان کا حصہ بڑھایا گیا: وزیراعظم شہباز شریف بلاول بھٹو کا کشمیر صورتحال پر اظہار تشویش، قومی سلامتی و سیاسی اتفاق رائے پر زور پنجاب میں گرد آلود ہواؤں اور بارش کا امکان، محکمہ موسمیات نے الرٹ جاری کر دیا سپریم جوڈیشل کونسل نے ججز ضابطہ اخلاق میں بڑی ترامیم منظور کر لیں ٹرمپ ایرانی میڈیا پر برہم، ایران امریکا معاہدے کی لیک تفصیلات کو جعلی قرار دے دیا بھارتی فضائیہ کے طیاروں کے مسلسل حادثات، جنگی تیاریوں پر سوالات اٹھ گئے وفاقی بجٹ میں اہم اداروں کے لیے اربوں روپے مختص، ایف بی آر اور پارلیمان کے اخراجات میں بڑا حصہ ورلڈ کپ 2026 سے قبل انگلینڈ ٹیم کو دھچکا، کنساس سٹی میں ٹریننگ سامان چوری بجٹ اقدامات پر کاروباری برادری کا ردعمل، تنخواہ دار طبقے کو مزید ریلیف دینے کا مطالبہ فیفا ورلڈ کپ 2026: کینیڈا اور بوسنیا کا میچ 1-1 سے برابر، ٹورنٹو میں افتتاحی تقریب شہنشاہِ غزل استاد مہدی حسن کی برسی، سروں کے سلطان کو دنیا سے رخصت ہوئے 14 برس مکمل عاصم اظہر کا نئے گانے اور سوشل میڈیا تنازع پر ردعمل، مداحوں کے تحفظات پر وضاحت جاری دنیا بھر میں میٹا سروسز متاثر، فیس بک اور انسٹاگرام صارفین کو مشکلات کا سامنا وفاقی کابینہ نے مالی سال 2026-27 کا بجٹ مسودہ منظور کر لیا گلگت بلتستان: پیپلز پارٹی پارلیمانی اجلاس، حکومت سازی پر مشاورت آزاد کشمیر: راولاکوٹ میں پرتشدد واقعات، سکیورٹی اہلکار زخمی
پاکستان خبر

مودی حکومت نے امریکی لابنگ فرم کی خدمات حاصل کر لیں

مودی حکومت نے امریکی لابنگ فرم کی خدمات حاصل کر لیں

ممبئی( مانیٹرنگ ڈیسک)بھارت میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وائٹ ہاس پر اثر انداز ہونے کے لیے ایک امریکی لابنگ فرم کی خدمات حاصل کی ہیں۔ اس فرم کی سرگرمیوں میں سوشل میڈیا پر موجود مواد کی نگرانی اور فلیگ کرنا شامل ہے۔ذرائع کے مطابق مودی حکومت نے اپریل 2025 سے امریکی لابنگ کمپنی SHW Partners LLC کی خدمات حاصل کر رکھی ہیں، جس پر سالانہ تقریبا 18 لاکھ ڈالر خرچ کیے جا رہے ہیں جبکہ ماہانہ ادائیگی ڈیڑھ لاکھ ڈالر بنتی ہے۔ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وزیر اعظم مودی گزشتہ گیارہ برسوں میں باضابطہ پریس کانفرنس کرنے یا کھلے مکالمے کو ترجیح دینے سے گریز کرتے رہے ہیں۔ تنقید کرنے والے مزید کہتے ہیں کہ یک طرفہ ابلاغ اور سفارتی صلاحیتوں کی کمی کے باعث بھارت کو مالی نقصان بھی اٹھانا پڑ رہا ہے۔